قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 59 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 59

وه وَعَاشِرُدُ هُن بالمعروف ہاں اگر وہ بے جا کام کرے تو سنیہ سروری چیز ہے۔انسان کو چاہیے کہ عورتوں کے دل میں یہ بات جما دے کر وہ کوئی ایسا کام ہو دین کے خلاف اور بدعت ہو کبھی بھی پسند نہیں کرسکتا۔اور ساتھ ہی وہ ایسا جابہ اور تم شعار نہیں کہ اس کی کسی غلطی پر چشم پوشی نہیں کر سکتا۔زالحکم جلد له صدرایام مورخ ۲۴ دسمبر تائه صد۲) شخص بزدل ہے۔جوعور کے مقابل پرکھڑا ہوتا ہے عورتوں اور بچوں کے ساتھ تعلقات اور معاشرت میں لوگوں نے غدھیاں کھاتی ہیں اور جاره مستقیم سے بہک گئے ہیں۔قرآن شریف میں رکتا ہے وَعَاشِرُوهُن بس خروف مگر اب اس کے خلاف محل ہو رہا ہے۔دو قسم کے لوگ اس کے متعلق بھی پائے جاتے ہیں۔ایک گروہ تو ایسا ہے کہ انہوں نے عورتوں کو بالکل علی الرسن دبے تمہارا کر دیا ہے کہ ان کا کرنا اثر ہی ان پر نہیں ہوتا۔ادرد، کھلے طور پر اسلام کے خلاف کہتی ہیں۔اور ان سے کوئی نہیں پوچھتا۔اور بعض ایسے ہیں کہ انہوں نے علی الدین تو نہیں کیا مگراس کے بالمقابل ایسی سختی اور پابندی کیا ہے کہ ان میں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں کیا جا سکنہ اور کنیزوں اور بہائم سے بھی یہ تر ان سے سلوک ہوتا ہے۔مارتے ہیں خوا سے بے درد ہو کہ کہ کچھ پتہ نہیں کہ آگے کوئی جاندار مستی ہے کہ نہیں۔معرض بہت ہی بری طرح سلوک کرتے ہیں یہاں تک کہ پنجاب میں مثل مشہور ہے کہ عورت کو پاؤں کی جوتی کے ساتھ تشیہ دیتے ہیں کہ ایک اُتاری اور دوسری پہن لی۔یہ بڑی خطرناک بات ہے اور اسلام کے شعائمہ کے خلاف ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علی کم ساری باتوں کے کامل نمونہ ہیں۔آپ کی زندگی میں دیکھو کہ آپ عورتوں کے ساتھ کیسی معاشرت کرتے تھے۔میرے نزدیک وہ شخص بزدل اور نامرد ہے جو عورت کے مقابلہ میں کھڑا ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسم کی پاک زندگی کا مطالعہ کرد تا تمہیں معلوم ہو کہ آپ ایسے خلیق تھے۔باد جو کہ آپ بڑے بارعب تھے لیکن اگر کوئی ضعیفہ عورت بھی آپ