قواریر ۔ قوامون — Page 53
۵۳ تو وہ مجھے معاف کرے۔اور میں بہت ڈرتا ہوں۔کہ ہم کسی ظالمانہ حرکت میں مبتلا نہ ہو جائیں ، حضرت اندش مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوا کے نمونہ کی ساری زندگی کی باتیں ہمارے گھروں میں آج تک زندہ چلی آرہی ہیں۔کوئی دیر کی بات نہیں۔ایسا پاک نمونہ تھا۔حضرت امان جان اللہ آپ سے راضی ہوا کے ساتھ۔ایسا پاک سلوک تھا۔ایسا محبت اور نرمی اور شفقت کا سلوک تھا کہ آج دُنیا میں سب سے بڑا دعویدار بھی جو یہ کہنا چاہتا ہو کہ ہمیں اپنی بیوی سے حسن سلوک کرتا ہوں۔اس نمونے کا پاسنگ بھی نہیں دکھا سکتا۔اس کے باوجود یہ حال ہے۔اور اس بات میں بڑی حکمت ہے کہ یہ نہیں کہا کہ ہمیں ڈھا کرتا ہوں۔فرمایا۔کہیں اس بیوی سے درخواست کرتا ہوں۔جس کو میں سمجھتا ہوں کہ مجھ سے کوئی رکھ پہنچ گیا ہے۔کہ تم میرے لئے دعا کرو۔ورنہ ہر خاوند اُٹھ کر یہ کہنا شروع کر دے گا۔کہ ہم نے مار لیا پھر دعا کرلی۔ہم نے مارا پھر دعا کرلی۔یہ بہت ہی باریک اور لطیف نکتہ ہے۔(مغفرت کے لئے اس کی بخشش مروری ہے بس یہ اتفاقی منہ سے نکلا ہوا کلام نہیں ہے۔بلکہ عارف باللہ کا کلام ہے۔اس میں لئے بہت ہی بڑے منوں کے مانہ ہیں۔جب بھی آپ کسی کے خلاف زیادتی کرتے ہیں۔گروہ انسان ہے۔تو انسان سے معافی لینا ضروری ہو جاتا ہے۔ورنہ تو یہ انظلم ہو جائے دنیا میں۔کہ ظلم انسانوں پر کرتے ہیں اور معافی خدا سے مانگتے نہ ہیں۔خدا سے بھی معافی مانگنی ہوگی۔کیونکہ اس کی تعلیم کے خلاف ظلم کیا لیکن جس کے خلاف نر یا ہتی ہوئی ہے۔جب تک اس سے معافی نہ مانگی جائے۔اس وقت تک حقیقت میں معافی کا انسان حقدار نہیں ہو پاتا۔