قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 51 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 51

اس کا آپ تصور کر سکتے ہیں۔اه چنا پنچہ حضرت عمریضہ نے کچھ عرصہ کے بعد ان کو کہا۔کہ بی بی بس کرد۔کافی ہو گئیں نمازہ ہیں۔گھر میں اجازت ہے۔تو کیوں مسجد جاتی ہو۔اور کہا ندا کی قسم تم جانتی ہو کہ تمہارا یہ فعل مجھے پسند نہیں۔انہوں نے کہا واللہ جب تک آپ مجھے مسجد جانے سے کیا نہیں روکیں گے۔یہیں نہیں رکوں گی۔اور حضرت عمریض کو جہات نہیں ہوئی کہ بیوی کو محکما مسجد جانے سے روک دیں۔چنانکہ آخر وقت تک انہوں نے یک سلا نہیں چھوٹا۔اور باقاعدہ مسجد جا کر نماز پڑھتی رہیں۔صحابہ یہ بیان کرتے ہیں کہ بخاری شریف میں یہ ہدایت ہے۔کتاب النکاح باب الوصاة بالنساء کہ حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے کہ حال یہ ہو گیا تھا ہمارا کہ ہم اپنے گھروں میں اپنی عورتوں سے بے تکلفی سے گفتگو کرنے سے ڈرنے گئے تھے۔کو کہیں یہ شکایت کر دیں۔اور ہمارے خلاف آیت نازل نہ ہو جائے۔یہ عام نہ اس عورت کا جسے خانمانہ طور پر زندہ درگور کر دیا جاتا تھا یہیں سے غلاموں اور لونڈیوں سے بدتر سلوک کیا جاتا مقاسب سے زیادہ مظلوم حالت عرب کی عورت کی تھی اور اس دور میں کہاں سے اٹھایا ہے اور کس شان تک پہنچا دیا ہے۔تمام زندگی میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی عورت کے اور یہ ہاتھ نہیں اٹھایا۔اس لئے اس بات سے ایک اور بھی نکتہ نکلتا ہے۔کہ وہ تعلیم جو آپ پر نازل ہوئی واخر بوھن۔وہ آپ کے دل کی تعلیم نہیں تھی۔وہ خدائے واحد و یگانہ کا پیغام تھا کہ میں کے قلب کی یہ حالت ہو۔کہ ساری عمر اپنے غلاموں سے اپنے ماتحتوں سے اپنے دشمنوں سے یہ سلوک رہا ہو۔کہ جو زیادتیاں بھی کر رہے ہوں۔نافرمانیاں کھبی کر رہے ہوں۔مشر سے سخت کلام بھی ان کے متعلق نہ نکلا ہو۔وہ یہ تعلیم سوچ ہی نہیں سکتا کہ واضْرِبُوهُن کہ ان کو مارو۔اس نئے جو خدا انسانی فطرت سے واقف ہے۔جو جاتا ہے کہ بعض دفعہ گھروں میں عور میں ایسے طریق اختیار کر لیتی ہیں کہ اگر ان کو یہ خوف نہ رہے کہ ایک مقام پر جا کہ ان کو سزا ملے گی۔تو وہ حد سے زیادہ بڑھنا شروع ہو جائیں۔اس خدا کے سوا یہ تعلیم نازل نہیں کر سکتاتھا کوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مزاج کے خلاف بات تھی۔