قواریر ۔ قوامون — Page 47
۴۷ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ سلم ان کا اپنا نمونہ دیکھئے جن پر یہ تعلیم نازل ہوئی تھی۔اس تعلیم کو انہوں نے کس طرح سمجھا۔اور کس طرح اس پر عمل کیا۔اور کس طرح اپنے غلاموں میں اس تعلیم کو رائج فرمایا۔وہ اسلام ہے۔اس اسلام میر انگلی اٹھا کر دیکھیں۔عورتیں آبگینے ہیں۔احتیاط رکھیئے آن صلى الله علی سام کا عورتوں سے حسن سلوک خود حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم جور توں کی تکلیف اس ملکہ نہیں ٹباشت کرسکتے تھے کہ ایک دفعہ ایک اونٹ کو تیز دوڑتے ہوئے دیکھا۔تو آپ نے فرمایا۔آئینے میں آنگینے ہیں۔اس تیزی سے تم اونٹ کو دوزا ر ہے ہو۔اس میں عورتیں سوار نہیں چوٹ لگ جائے گی۔جس طرح آپ نے گال اس کے پیکیٹ پر لکھا دیکھا ہوگا GLASS WITH CARE GLASS WITH CARE یہ محاورہ چودہ سو سال پہلے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کے لئے یہ ایجاد کیا۔فرمایا تھا۔کہ GLASS WITH CARE - توجیں کا اپنا جان یہ ہو۔عورت کی طرف۔اس کی طرف ظلم کی تعلیم منسوب کرنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت صفیہ کے ساتھ اونٹ پر سوار تھے۔اونٹ نے ٹھو کر کھائی۔اور وہ گر گیا۔سارے عشاق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی طرف دوڑے۔تو آپؐ نے فرمایا المراة المرأة۔میرا خیال چھوڑد و عورت کی خبر لو عورت کی خبر لو ' LADIES FIRST کا یہ محاورہ آج کل بنا کر پھیرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو کیسی معزز کسی اچھی تعلیم ہے۔جو چودہ سو سال قبل حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ واله وسلم محمدمصطفی نے باوجود اس کے کہ سب سے زیادہ محبوب تھے۔بے اختیارہ وہ عشق میں آپ کی طرف دوڑے تھے کوئی مرد عورت کا فرق نہیں کیا جار ہا تھا۔اس کے باوجود اپنے مذہبی۔بلند مرتبے کو سامنے رکھتے ہوئے۔آپ نے یہی فرمایا۔المراة المراة - عورت کا خیال کرد۔عورت کا خیال کرو۔کدھر کو دوڑے چلے آرہے ہو؟ امر واقعہ یہ ہے کہ بعض اوقات