قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 35 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 35

۳۵ کیا کہ وہ یہ نہیں فرمایا کہ وہ دنگا کرتی ہیں۔تو تم بھی دنگا شروع کر دو۔تمہارا حق قائم ہو گیا۔آگے دیکھیں کہ تین شرطیں اسی آیت کی ہیں۔جس کی طرف یورپ کی نظر ہی نہیں جاتی۔یا مغرب کی نظر ہی نہیں جاتی طبعی عقلی نتیجہ یہ نکلنا چاہیے تھا۔اور آج کی دنیا کے قانون میں بھی یہی نتیجہ نکلے گا کہ اگر عورت میں پہل کریں فساد میں۔اگر وہ باغیانہ رویہ پہلے اختیار کریں اور مرد پر ہاتھ اٹھانے سے بھی باز نہ آئیں تو پھر مرد کو بھی چھٹی ہوئی جائے۔وہ جو چاہے کرے لیکن قرآن کریم جیسی نہیں دیتا بلکہ عورت کی نزاکت کے خیال سے اس کی بعض کمزوریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے فرمایا فَعِظُوهُن۔تم طاقتور ہو۔تم قوام ہو۔اگر قوام کا یہ مطلب ہوتا جو اہل مغرب نے لیبا ہے کہ وہ حاکم ہے ڈنڈا چلائے گا۔تو فعظوھن۔کا کونسا موقعہ تھا۔یہاں پر۔پھر تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ تمہارے قوام ہوتے ہوئے کسی عورت کی جرات کیا تھی کہ وہ تمہارے متعلق باخیان طرز اختیار کرے۔اتحادہ ڈنڈا اور مارنا شروع کرد۔فرمایا کہ نہیں فعظوهن حوصلہ دکھاؤ۔تم طاقتور ہو تمہیں خدا تعالے نے کئی پہلوؤں سے فضیلت بخشتی ہے۔اس نئے حوصلے سے کام لیتے ہوئے پہلے نصوت کرد۔اگر نصیحت کارگر نہ ہو تو دوسرا قدم اٹھاؤ۔وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَصَاجِح - ان کو اپنے بستروں میں کچھ عرصہ کے لئے الگ چھوڑ دو۔اب بستروں کو جو الگ چھوڑا جائے۔عورتوں کو تو اِس کے متعلق یہ دہم کرلینا که یک طرفہ سزا ہے۔بڑی بیوقوفی ہے۔بسا اوقات یہ ممکن ہے کہ بستر میں الگ چھوڑنے کے وا نتیجے میں عورت امن میں آجائے۔کہ شکر ہے خدا کا یہ ہو گیا میں تو پہلے ہی تنگ آئی بیٹھی تھی اور مرد کو سزا ملنی شروع ہو جائے اور واقعتنا یہی ہوتا ہے تو قرآنی تعلیم کا عجیب کمال ہے کہ بغیر مرد کو بتائے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔تمہارے ساتھ۔اس کو ایک ایسے عمل پر مجموعہ کیا ہے جس کے نتیجے میں اس کا غصہ ٹھنڈا ہونے کا ہر امکان پیدا ہو جاتا ہے۔نصیحت کے باوجود عورت نہیں سن رہی اور ہاتھ کو کھولنے کی پھر بھی اجازت نہیں دی فرمایا۔کچھ دیہ علیحدگی اختیار کرو۔جب علیحدگی اختیار کرو گے تو انسانی جذبات ہیں وہ اعتدال پر آجاتے ہیں کئی قسم کی دل میں تحریکات پیدا ہوتی ہیں۔محبت عود کر آتی ہے۔اور نفسیاتی پہلو اس بات کا پیدا ہو جاتا ہے کہ شرمندہ ہو اپنے پہلے رویہ سے۔یا عورت کو خیال