قواریر ۔ قوامون — Page 24
قرآن کریم کی فیملی پلانگ ہیں صحت کے لحاظ سے ربیعنی بچہ کی صحت اور مال کی صحت ہر دو کے لحاظ سے) یہ حکم دیا ہے اور یہ تعلیم دی ہے کہ دو بچوں کا فاصلہ کم سے کم تین مہینوں کا ہونا چاہئیے اور اگر زیادہ خیال رکھنا ہو یا نہ یادہ کی ضرورت ہوشگا ماں کی صحت اچھی نہ ہو تو قریبا تین سال یا سوا تین سال کا عرصہ بنتا ہے۔یہ امر قرآن کریم نے باقاعدہ ایک واضح اسکیم کی صورت میں ہمارے سامنے رکھا ہے اگر اس بات کا خیال رکھا جائے تو جائر فیملی پلاننگ بن جاتا ہے۔قرآن کریم اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ انسان خدا کی بجائے دنیا کا رازق بنے کی کوشش کرے اور کہیے کہ چونکہ کھانے کو نہیں اس لئے نسل کم ہونی چاہیے۔لیکن قرآن کریم یہ ضرور کہتا ہے کہ ہم نے معاشرہ کی صحت ، تمہاری صحت اور بچے کی نشو ونما کے لئے کچھ قواعد مقرب فرمائے ہیں۔ان کو مد نظر ر کھیں۔اس کے نتیجہ میں بھائی بھائی اور بھائی بہن کے درمیان جب تین چار سال کا فاصلہ ہوگا۔تو بیچوں کی تعداد خود بخود کہا ہو جائے گی جب کہ اس تعلیم یہ عمل نہ کرتے ہوئے بہت سے لوگوں کے ہاں ہر سال ایک بچہ ہو جاتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم ہر سال بیچنے کی اجازت نہیں دیتے کم از کم تین مہینے کا فاصلہ ہونا چاہیے۔اور ضرورت پر تین سال یا سوا تین سال کا ہونا چاہیئے اور اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔اگر شالاً ماں بیاہ ہو۔اگر بیشتر کی صحت ایسی ہے کہ مال کو اس بچہ کی نگہداشت پر نہ یادہ توجیہ اور وقت دینا چاہئیے۔وہ دو، اگر دو پہلے ہوں تو نین، اگر تین پہلے ہوں تو چار بچوں کی نگہداشت نہیں کرسکتی۔تو زائد بوجھ اس پر نہ ڈالو۔پس اللہ تعالے نے یہاں یہ فرمایا کہ ہم نے تمہیں (مردوں کو) معاشرہ میں کمانے والا حصہ بنایا ہے۔اور اس وجہ سے کہ تم خرچ کرتے ہو نا جائز فائدہ نہ اٹھانا بلکہ یہ یاد رکھنا کہ الہ تعالے نے تمہیں قوام بنایا ہے۔اور قوام کی حیثیت سے جو ذمہ داریاں تم پر عائد ہوتی ہیں وہ تمہیں نبھانی چاہئیں۔قوام کی دوسری شکل (روحانی) یہ بنتی ہے۔۔۔۔۔کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے رشتہ ہیں میاں بیوی ہوں۔باپ اور ماں ہوں بھائی اور بہن ہوں۔ان سب میں مرد