قواریر ۔ قوامون — Page 23
۲۳ فرائض کی اداری می خواتین کی کرسی کی مداری مر پر عائد ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے مردوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ہم نے مرد کو عورت کا نگران اور محافظ منفر کیا ہے۔کس چیز کی نگرانی کرتی ہے؟ اور کس چیز کی حفاظت کرنی ہے ؟ اس کے متعلق آگے چل کر ہمیں یہ بتایا کہ عورت کی جسمانی نشو ونما اور تربیت اور صحت وغیرہ کی نگرانی کا کام مرد پر طوال گیا ہے کہ عام طور پر معاشرہ انسانی میں مرد کھانے والا اور خرچ کرنے والا ہے۔ہمیں بطور خاوند یا بطور باپ یا بعض اوقات بطور بڑے بھائی یا کسی بڑے رشتہ دار کی حیثیت سے یہ ذمہ داریاں نبھانی پڑتی ہیں کہ ان مستورات کو جو بیوی کی حیثیت میں یا جو بیٹی کی حیثیت میں یا جو چھوٹی بہن کی حیثیت میں ہمارے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور ہماری زیر نگرانی ہیں ہماری حفاظت میں ہیں ان کی صحت کا ہم خیال کیں۔ان کی جسمانی نشو و نما کا ہم خیال رکھیں کیونکہ ہم خرچ کرنے والے ہیں اور خرچ کی راہ بھی اس میں تبادی کہ شریح کرتے وقت فضولیات کی بجائے ضروری چیزوں کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے۔۔۔۔۔۔راس کے خلاف اس وقت براہ جان ہے۔بڑی رد پائی جاتی ہے۔مغربی تہذیب التراجات کو ان راستوں سے ہٹا کہ زدین حق نافل ) نے بتائے ہیں۔دوسری طرف لے جانا چاہتی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم صرف تخریج کی ان راہوں کو اختیار کرو جو ہم نے تمہیں بتائے ہیں۔اور وہ ضروریات نہ زندگی ہیں اور وہ خرچ ہیں جن کے نتیجہ میں تمہاری اپنی صنعتیں قائم رہیں اور ان عورتوں کی صنعتیں قائم رہیں جن کا تمہارے ساتھ کوئی رشتہ اور تعلق ایسا ہے جس کی وجہ سے وہ تمہاری زیر نگرانی ہو جاتی ہیں اور ان کی تربیت جسمانی اس کہ نگ میں ہو کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھا سکیں۔مثلاً قرآن کریم نے اپنا ایک فیملی پلاننگ بھی دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم اس فیملی پلاننگ کی اسکیم پر عمل کرتے جو قرآن کریم نے دنیا کے سامنے رکھی ہے۔ہم اس سلسلہ میں بھی غیر قوموں سے بھیک مانگتے ہیں اور ان کے خیالات کو جاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔