قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 12 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 12

۱۲ بڑے گھرانوں کی لڑکیوں سے شادیاں کر لیں اور بعد میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہونہیں لیکن ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہوتا کیوں کا رشتہ کی تجویز کے وقت باپ غور کرتا ہے۔والدہ غور کرتی ہے بھائی سوچتے ہیں۔رشتہ دار تحقیق کرتے ہیں اور اس طرح جو بات طے ہوتی ہے۔وہ بالعموم ان نقائص سے پاک ہوتی ہے۔جو یورپ میں نظر آتے ہیں۔یورپ میں تو نقص اس قدر زیادہ ہے کہ جرمنی کے سابق شہنشاہ کی بہین نے اسی نا واقعی کی وجہ سے ایک باورچی سے شادی کر لی۔اس کی وضع قطع اچھی تھی۔اور اس نے مشہور یہ کر دیا تھا کہ وہ روس کا شہزادہ ہے۔جب شادی ہوگئی تو بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو کہیں باورچی کا کام کیا کرتا تھا۔یہ واقعات ہیں جو یورپ میں کثرت سے ہوتے رہتے ہیں۔ان واقعات سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے۔شریعت کا یہ منشا نہیں کہ عورتوں پر ظلم ہو۔یا ان کی کوئی حق تلفی ہو۔بلکہ شریعت کا اس امتیاز سے یہ نشا ہے کہ جن باتوں میں عورتوں کو نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ان میں ان کا حق خدا تعالے نے خود انہیں دے دیا ہے۔پس قرآن کریم نے جو کچھ کہا ہے وہ اپنے اندر بہت بڑی حکمتیں اور مصالح رکھتا ہے نے کچھ اگر دنیا ان کے خلاف عمل کر رہی ہے۔تو وہ کئی قسم کے نقصانات بھی برداشت کر رہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام کے خلاف عمل پیرا ہونا کبھی نیک نتائج کا حامل نہیں ہو سکتا۔آخرین واللهُ عَين حکم فرما کر اس طرف توجہ دلائی کہ یاد رکھو عور توں پر جو فوقیت ہم نے تمہیں دی ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اس سے ناجائز فائدہ اٹھاؤ اور ان کے حقوق کو پامال کرنا شروع کردو۔دیکھو تم پر بھی ایک حاکم ہے جو عزیز ہے یعنی اصل حکومت خدا تعالے کی ہے اسلیئے چاہیے کہ مرد اس حکومت سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائے اور حس کنیم کہ کر اس طرف توجہ دلائی کو نظم وضبط کے معاملات میں جو اختیار ہم نے مردوں کو دیا ہے۔یہ سراسر حکمت پر مبنی ہئے ورنہ گھروں کا اسن یہ یاد ہو جاتا۔چونکہ میاں بیوی نے مل کر رہنا ہوتا ہے اور نظام اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا۔جب تک کہ ایک کو فوقیت نہ دی جائے۔اس لئے فوقیت مرد کو دی گئی ہے اور اس کی