قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 74 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 74

74 یعنی یہ غضب اور یہ عذاب اس لیے ہے کہ انہوں نے ورلی زندگی کو آخرت کے مقابل میں پسند کیا۔ان الفاظ سے بھی پایا جاتا ہے کہ ارتداد کی سزا اقتل نہیں تھی۔کیونکہ مرتدوں کو اگر فوراً ارتداد کے بعد قتل کر دیا جاتا تو ذلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيوةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ والی غرض پوری نہیں ہوسکتی تھی۔یہ غرض تو اسی صورت میں پوری ہو سکتی تھی کہ ارتداد کے بعد وہ زندہ رہتے اور ان کے قتل کا حکم نہ ہوتا۔چوتھی آیت إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ امَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كَفَرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا (النساء: 138) جو لوگ اسلام لائے اور پھر اسلام سے انکار کر دیا پھر اسلام لائے اور پھر انکار کیا، اور پھر اس کے بعد کفر میں بڑھتے گئے تو خدا نہ تو ان کی مغفرت ہی کرے گا اور نہ ان کو راہِ راست ہی دکھائے گا۔“ اس آیت پر بھی یہی اعتراض کیا گیا ہے کہ اس میں اگر دنیوی سزا کی صراحت نہیں تو نفی بھی نہیں۔میں کہتا ہوں یہی تو معرض بحث ہے کہ باوجود قرآن کریم میں کئی جگہ مرتدین کا ذکر ہونے کے پھر تمہاری مزعومہ سزا کا کہیں ذکر نہیں۔اگر یہ سزا ہوتی تو ضرور کسی نہ کسی جگہ اس کا اشارہ ہوتا۔پس ہماری دلیل یہ ہے کہ ہر جگہ ارتداد کی سزا اُخروی عذاب ہی فرمانا قتل کی نفی ہے۔دوسرے اس آیت میں دو دفعہ ایمان اور دو دفعہ کفر کا ذکر ہے اور پھر اصرار علی الکفر کا ذکر ہے۔اگر ارتداد کی سزا قتل ہوتی تو ایسے نظارہ کا مشاہدہ ناممکن تھا۔قتل کی سزا کی موجودگی میں کسی جماعت یا فرد سے ایسی جرات کا اظہار نہیں ہو سکتا تھا۔تیرے ثُمَّ ازْدَدُوا كُفْرًا میں لمبے عرصہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔دوتین دن کی مہلت