قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 69 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 69

69 خصوصیت ہے کہ تھوڑے لفظوں میں بہت سے معانی ادا کئے گئے ہیں۔یہ نہیں کہ قرآن شریف کی ہر ایک آیت ایک ہی مفہوم تک محدود ہے اور کوئی دوسرا مفہوم اس سے نکالنا غلطی ہے۔ایک آیت کو صریح الفاظ کے ہوتے ہوئے ایک ہی معنی میں مخصوص کرنا صحیح نہیں بلکہ کئی مفہوم نکل سکتے ہیں بشرطیکہ ایک معنے دوسرے معنوں کے متضاد نہ ہوں۔پس آیات زیر بحث میں اگر حامیان قتل مرتد کے معنے بھی درست مان لئے جائیں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا ہے کہ کفر بعد اسلام کے ظاہری اور اقرب معنے لینا غلطی ہے بلکہ ان کے پیش کردہ معنوں کے باوجود آیت اپنے ظاہری معنوں میں بھی درست ماننی پڑے گی اور حامیان قتل مرتد یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ یہاں ایمان کے کوئی خاص معنے ہیں اس لئے عام اور معروف معنے لینا جہالت ہے۔عام اور معروف معنے لینا جہالت نہیں بلکہ جو شخص ان پر اعتراض کرتا ہے وہ خود اپنی جہالت کا ثبوت دیتا ہے۔افسوس ! کہ معترضین کو تمام مفسرین کے مشہور ومعروف اور مسلم اصول کا بھی علم نہیں اگر کسی آیت کریمہ کے نزول کا کوئی خاص سبب یا موقع ہو تو وہ آیت اس خاص موقع اور محل کے لئے مخصوص نہیں سمجھی جاتی بلکہ وہ اپنے الفاظ کے مفہوم کے جائز دائرہ کے اندر پوری پوری وسعت اور عمومیت رکھتی ہے۔چنانچہ مفسرین نے اس کے متعلق جو اصل باندھا ہے وہ یہ ہے الاعتبار بعموم اللفظ لا بخصوص السبب یعنی ہر ایک آیت اپنے الفاظ کے عام معنوں میں لی جائی گی جس محل پر وہ پہلی دفعہ نازل ہوئی اس محل و موقع میں اس کو محصور نہیں سمجھا جائے گا۔(ملاحظہ ہو قتوی علی البیضاوی جلد اوّل صفحہ 131 ) اسی طرح روح المعانی جلد 2 صفحہ 294 پر لکھا ہے و سبب النزول لا يصلح مخصصا فان العيرة كمـا تـقـرر بعموم اللفظ لا بخصوص السبب یعنی کسی آیت کا سبب نزول اس آیت کی تخصیص نہیں کرتا بلکہ وہ آیت اپنے عام معنوں میں سمجھی جائے گی اور اس کو اس