قتل مرتد اور اسلام — Page 35
35 لوگوں کو قتل کرنا کہ وہ کیوں ہندو مذہب کو چھوڑ کر دوسرا مذ ہب اختیار کرتے ہیں جو سخت سنگدلی اور پرلے درجہ کی بے رحمی ہے۔اس کو کوئی حق نہیں کہ لوگوں کے مذہب کے معاملہ میں دخل دے۔کسی مذہب کے قبول کرنے یا نہ قبول کرنے کے بارے میں اسے چاہئیے تھا کہ وہ لوگوں کو آزاد چھوڑ دیتا تا جس مذہب کو وہ سچا سمجھتے اسے اختیار کرتے۔پس میں پوچھتا ہوں کہ جو بات دوسروں کے لئے ناجائز ہے وہ تمہارے لئے کس طرح جائز ہوگی؟ یہ کیونکر ہوا کہ جس بات کو تم دوسرے لوگوں کے لئے ظلم عظیم کہتے تھے اور جس کوسُن کر تمہارے چہرے سرخ ہو جاتے تھے اور تمہاری آنکھوں میں خون اتر آتا تھا وہ تمہارے لئے کیوں عین صواب ہو گیا ؟ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک فعل کو جب دوسرے لوگ کریں تو وہ نہایت ہی وحشیانہ فعل اور خونخواری کہلائے اور جب تم اسی کام کو کرو تو وہ نہایت مہذبانہ اور شریفانہ ہو جائے ؟ آج اگر کوئی ہندو ریاست ایسے لوگوں کو جو جنم کے ہندو ہوں اور بعد میں اسلام لے آئیں گرفتار کرنا اور پھر سنگسار کرنا شروع کر دے تو کیا مولوی ظفر علی خاں صاحب ”زمیندار“ کی ایڈیٹری کی کرسی پر بیٹھ کر اس راجہ کے خلاف نہایت پُر زور پُر جوش مضمون نہیں لکھیں گے اور کیا اپنے قلم کا سارا زور اور اپنی ساری قوت بیان اس کے اس فعل کو خلاف انسانیت اور ظالمانہ قرار دینے میں خرچ نہیں کر دیں گے؟ اور کیا اس کے خلاف ایک ہنگامہ قیامت برپا نہ کر دیں گے؟ لیکن اگر مولوی صاحبان کو جواب میں یہ کہا گیا کہ اس راجہ نے بالکل اسی اصول پر کام کیا ہے جس پر امیر صاحب کابل نے کیا ہے تو مولوی ظفر علی خاں صاحب دنیا کو کیا جواب دیں گے؟ کیا مولوی صاحب یہ کہیں گے کہ چونکہ امیر صاحب کا بل کا مذہب سچا مذہب ہے اس لئے اس کے لئے نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے کہ جو شخص اس کے مذہب کو چھوڑے وہ اسے قتل کر دے۔لیکن نیپال کے راجہ یا چین کی حکومت یا روس کی گورنمنٹ کا مذہب سچا مذہب نہیں ہے اس لئے اگر وہ کسی کو مذہب کی تبدیلی سے روکیں اور ایسی تبدیلی کرنے والوں کو