قتل مرتد اور اسلام — Page 34
34 جن پر مومنوں کے دشمن ہمیشہ قدم مارتے چلے آئے۔گذشتہ لوگوں کے جن کاموں کی اللہ تعالیٰ تحسین فرماتا ہے وہ نیک کام ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں اختیار کریں اور گذشتہ قوموں کے جن افعال کو اللہ تعالیٰ ظلم قرار دیتا ہے وہ کام ہمیشہ ظلم ہی سمجھے جائیں گے اور جو شخص ان کا ارتکاب کرے گا خواہ وہ کافر کہلا تا ہو یا اپنی تئیں مومن کا خطاب دیتا ہو وہ خدا کے نزدیک ظالم ہے۔ظلم ہمیشہ ظلم ہے خواہ اس کا مرتکب زید ہو یا بکر۔اگر مذہبی عقائد کے لئے کسی کو دکھ دینا کفار کے لئے ایک ظلم ہے تو مسلمانوں کے لئے بھی ایسا کرنا ظلم ہے۔خدا تعالیٰ نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ مذہبی تبدیلی پر کفار کے لئے تو یہ ظلم ہے کہ وہ کسی کو تکلیف دیں مگر مومنوں کے لئے ایسا کرنا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔یہ بالکل انصاف سے بعید ہے کہ کفار ایک کام کریں جو ظلم کہلائے اور بعینہ وہی کام مومن کریں تو وہ نہ صرف جائز سمجھا جائے بلکہ ضروری قرار دیا جائے۔فرض کرو ایک ہندو ریاست ہے اور اس کا راجہ ایک خود مختار حاکم ہے جس نے یہ قانون جاری کر رکھا ہے کہ جو شخص ہندو مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کرے اسے فورا قتل کر دیا جائے، اب بتائیے ہندو راجہ کا یہ فعل ظلم ہے یا نہیں ؟ کیا تمہاری کانشنس اس بات کی شہادت نہیں دیتی کہ وہ راجہ بڑا ہی ظالم اور سفاک ہے جو اسلام لانے پر لوگوں کو قتل کر دیتا ہے؟ کیا تم یہ نہیں کہو گے کہ وہ انسان نہیں بلکہ ایک درندہ ہے؟ کیا تم اس کے فعل کو ایک وحشیانہ فعل نہیں کہو گے؟ کیا تمہاری فطرت اس کے خلاف جوش میں نہیں آئے گی ؟ اور کیا تمہاری طبیعت نفرت اور غضب سے نہیں بھر جائے گی؟ کیا تم اس کے فعل پر اظہار نفرین نہیں کرو گے؟ میں اس سے بھی اتر کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر وہ راجہ اپنی رعایا کے لوگوں کو اس لئے قتل کرتا ہے کہ وہ آریہ مذہب اختیار کرتے ہیں یا مسیحی تثلیث اور کفارہ پر ایمان لا کر بپتسمہ لیتے ہیں تو مجھے سچ سچ بتاؤ تم اس کے اس فعل کو کیسا سمجھو گے؟ تم اپنی ضمیر کو جگا کر پوچھو جوضرور یہی فتویٰ دے گی کہ وہ راجہ ایک ظالم انسان ہے اور اس کا اس لئے