قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 245 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 245

245 کہ حضرت علیؓ نے خوارج کے ساتھ ان کے عقائد کی وجہ سے لڑائی نہیں کی بلکہ ان کی بغاوت اور فساد کی وجہ سے ان سے لڑائی کی۔(۲) تاریخ الکامل اور دوسری کتب تاریخ میں لکھا ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عبداللہ بن خباب کے قتل کی خبر پہنچی اور نیز یہ کہ وہ لوگوں کو روک لیتے ہیں۔تو حضرت علی نے اس امر کی تحقیق کے لئے الحرث بن مرۃ العبدی کو بھیجا۔اور جب وہ ان کے پاس اس امر کے دریافت کرنے کے لئے آیا تو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس ایلچی کو قتل کر دیا۔چنانچہ تاریخ الکامل جلد ۳ صفحہ ۱۴۸ پر لکھا ہے۔فاضجعوه ای عبدالله بن خبّاب) فذبحوه فسال دمه في الماء واقبلوا الى المرأة فقالت انا امرأة الا تتقون۔فبقروا بطنها وقتلوا ثلاث نسوة من طئ وقتل ام سنان الصيدادية۔فلما بلغ عليا قتلهم عبدالله بن خبّاب واعتراضهم الناس بعث اليهم الحرث بن مرة العبدى ليأتيهم وينظر ما بلغه عنهم ويكتب به اليه ولا يكتم منهم 66 فلما دنا منهم يسألهم قتلوه “ یعنی خارجیوں نے عبد اللہ بن خباب کو لٹایا اور اس کو ذبح کیا۔اور اس کا خون بہہ کر پانی میں مل گیا۔پھر وہ اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے۔اس نے کہا کہ میں تو ایک عورت ہوں کیا تم خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے ؟ انہوں نے اس کا پیٹ چیر دیا۔اور بنی طئی کی تین عور تیں قتل کر دیں اور ام سنان الصداد یہ کو قتل کر دیا۔جب حضرت علی کو یہ خبر پہنچی کہ انہوں نے عبداللہ بن خباب کو قتل کر دیا ہے اور یہ کہ وہ لوگوں کو راستہ میں روک لیتے ہیں اور ان کو قتل کر دیتے ہیں تو انہوں نے الحرث بن مرۃ العبدی کو بھیجا۔کہ وہ ان کے پاس جائیں اور دیکھیں جو خبریں اُن کو پہنچتی ہیں وہ کہاں تک درست ہیں اور ان کو صحیح صحیح حالات لکھ کر بھیجیں۔جب الحرث بن مرة العبدی ان سے پوچھنے کے لئے ان کے