قتل مرتد اور اسلام — Page 241
241 پہلی دفعہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیش آئی۔جو مال کا حق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر کیا اور جس کی وصولی کا انتظام آپ نے اپنے ہاتھ میں لیا تھا اور جس کو وہ حکومت اسلامی کے بیت المال میں داخل فرما کر حکومت کی ضروریات کے لئے خرچ فرماتے تھے۔آپ کی وفات پر آپ کے جانشین کو ان محاصل کے دینے سے انکار کیا گیا۔اس لئے اس کا فرض تھا کہ وہ اپنی حکومت کے زور سے سلطنت اسلامی کی رعایا سے ان محاصل کو وصول کرتا۔اور اگر اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہوتے وہ بھی کبھی اس امر کی اجازت نہ دیتے کہ لوگ آپ کے عمال کو زکوۃ کا مال ادا نہ کریں۔علاوہ ازیں حکومت کا ایک کام احتساب بھی ہے یعنی جو لوگ اسلام میں داخل ہو کر شرائع اسلام کی پابندی سے کنارہ کشی اختیار کر میں حکومت اسلامی کا فرض ہے کہ ان کے خلاف تحذیری تدابیر عمل میں لائے اور ان کو احکام شریعت کی خلاف ورزی سے رو کے۔پس احتسابی پہلو سے بھی حضرت ابوبکر کا فرض تھا کہ جو لوگ اپنے تئیں مسلمان کہلاتے تھے اور زکوۃ دینے سے جو اسلام کے ارکان میں داخل ہے انکار کرتے تھے ان کو مجبور کرتے کہ وہ اسلام کے اس فریضہ کو ادا کریں۔اس جگہ یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ امیر کا بل نے بھی احمد مکی جماعت کے افراد کو احتساباً قتل کیا ہے کیونکہ احمدی جماعت نے ارکان اسلام میں سے کسی رکن کا انکار نہیں کیا اور نہ کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی کی اور نہ ان کو مسلمان سمجھ کر سزا دی گئی۔بلکہ ان کو اسلام سے خارج قرار دے کر قتل مرتد کے فرضی حکم کے ماتحت سنگسار کیا۔اس لئے یہ عذر یہاں درست نہیں ہوسکتا کہ ان کے خلاف احتسا با ایسی کارروائی کی گئی۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ تاریخ سے اول تو کسی ایسی قوم کا پتہ نہیں چلتا جنہوں نے صرف منع زکوۃ پر اکتفا کیا ہو بلکہ جہاں تک تاریخ سے پتہ چلتا ہے جن جن قوموں کے خلاف حضرت ابو بکر نے فوج کشی کا حکم دیا وہ سب کے سب کھلم کھلا سلطنت اسلام سے