قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 238 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 238

238 وفِي الرِّقَابِ وَ الْعَرِمِينَ وَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ الله وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمُ (التوبة: 60) صدقات تو صرف فقراء اور مساکین کے لئے ہیں اور ان کے لئے جو ان صدقات کے جمع کرنے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔نیز ان کے لئے جن کے دلوں کو اپنے ساتھ جوڑ نا مطلوب ہو اور اسی طرح قیدیوں اور قرض داروں کے لئے اور ان کے لئے جو اللہ کے راستہ میں جنگ کرتے ہیں اور مسافروں کے لئے یہ فرض اللہ کا مقرر کردہ ہے اور اللہ بہت جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔اس آیت کریمہ میں صدقات سے مراد ز کوۃ ہے اور اس کے مصرف وہی بیان کئے گئے ہیں جو میں نے اوپر بیان کئے ہیں۔اور یہ تمام مصارف ایسے ہیں جو ہر ایک اسلامی سلطنت کا فرض ہے کہ وہ ان کا انتظام کرے۔اور یہ تمام ضروریات ایسی ہیں جو ایک اسلامی سلطنت کو پیش آتی ہیں۔پس ہر ایک اسلامی سلطنت کا حق ہے کہ رعایا سے زکوۃ کا مال مندرجہ بالا مصارف کے لئے وصول کرے۔فریضہ زکوۃ اور فریضہ صلوۃ میں یہ فرق ہے کہ مؤخر الذکر کا تعلق صرف افراد سے ہے اور اول الذکر کا تعلق محض افراد سے نہیں بلکہ حکومت کو بھی اس میں دخل ہے۔اور اس کی ادائیگی کا انتظام کرنا حکومت کے ذمہ ہے۔بلکہ اس آیت کریمہ میں حکومت کے لئے یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وہ اس کی وصولی کے لئے الگ محکمہ مقرر کرے اور اس محکمہ کے تمام اخراجات اور کارکنوں کی تنخواہیں اور سفر خرچ وغیرہ زکوۃ کی مد سے ادا کئے جاویں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زکوۃ کی نسبت فرماتے ہیں:۔تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِيَاءِ هِمْ وَتُرَدُّ إِلَى فُقَرَاءِ هِمُ۔“ یعنی یہ ایک ٹیکس ہے جو دولتمندوں سے وصول کر کے فقراء پر خرچ کیا جاتا ہے۔یہاں تُؤخذ اور تُردّ کے الفاظ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ حکومت کا فرض ہے کہ