قتل مرتد اور اسلام — Page 237
237 جاتیں۔اسلحہ جنگ۔سپاہیوں کیلئے سواری اور دیگر سامان جنگ اسی زکوۃ کے مال سے مہیا کیا جاتا۔نیز سلطنت کا فرض ہوتا ہے کہ اپنی رعایا کی بہبودی کا ہر ایک رنگ میں خیال رکھے۔جولوگ بے روزگار ہیں یا کمانے کی طاقت نہیں رکھتے ان کی خبر گیری کرے۔جو لوگ کوئی فن جانتے ہیں مگر ان کے پاس سامان نہیں کہ وہ اس فن سے فائدہ اٹھا سکیں۔سلطنت کا فرض ہے کہ ان لوگوں کی مدد کرے اور اس طرح اپنے ملک میں حرفت و صنعت و تجارت کو ترقی دے۔نیز سلطنت کا فرض ہے کہ جہاں سڑکوں اور سراؤں کی ضرورت ہے وہاں مسافروں کی سہولت کے لئے سڑکیں تیار کرائے اور مسافروں کے آرام کے لئے سرا ئیں بنوائے۔دریاؤں اور ندیوں پر پل تیار کرائے۔اور یہ سارے اخراجات اس قسم کے ہیں کہ جن کے پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کا ٹیکس مسلمانوں پر لگایا ہے۔اسی طرح بعض اوقات حکومت کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اگر ان کی رعایا میں سے کوئی فرد بعض مجبوریوں کی وجہ سے قرض کے بوجھ نیچے دب گیا ہے یا اس پر کوئی ایسا تاوان پڑ گیا ہے جو اس کی طاقت سے بڑھ کر ہے تو ایسے شخص کی امداد کرے۔اور یہ غرض بھی زکوۃ کے مال سے ہی پوری ہوسکتی ہے۔اسی طرح اسلامی سلطنت چونکہ محض ایک دنیوی سلطنت نہیں اس لئے اس کے فرائض میں اشاعت اسلام بھی داخل ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ دین اسلام میں داخل ہونے والوں کی مدد کرے اور ان کی تالیف قلب کے لئے مال خرچ کرے۔اور یہ ضرورت بھی زکوۃ کے مال سے ہی پوری ہو سکتی ہے۔جو ضروریات میں نے اوپر بیان کی ہیں اور جو ہر ایک اسلامی سلطنت کو پیش آتی ہیں یہ وہی مصارف ہیں جو اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کے اموال کے لئے اپنی کتاب قرآن شریف میں مقرر فرمائے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔اِنَّمَا الصَّدَقْتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِينِ وَالْعَمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمُ