قتل مرتد اور اسلام — Page 232
232 کے ساتھ اس کی جنگ ہوئی تو صرف بنو حنیفہ کے چالیس ہزار سپاہی اس کے ساتھ موجود تھے اور ایسی خونریز لڑائی ہوئی کہ مسلمانوں نے ایسی سخت لڑائی کبھی پہلے نہیں دیکھی تھی۔مگر حامیان قتل مرتد مسیلمہ کو صرف ایک بے ضرر انسان ظاہر کرتے ہیں۔اور اعتراض کرتے ہیں کہ لا اکراہ فی الدین کے منشاء کے ماتحت اُس کو بالکل آزاد چھوڑ دینا چاہیے تھا۔اسی طرح حامیان قتل مرتد نے طلیحہ مدعی نبوت کی مثال کو پیش کیا ہے اور اُس سے یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے۔یا تو یہ مولوی صاحبان خود تاریخ سے قطعاً نا واقف ہیں یا دوسروں کو نا واقف سمجھ کر دنیا کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر ان دونوں باتوں میں سے ایک بات بھی درست نہ ہو تو پھر یہ سمجھ میں نہیں آسکتا کہ کیوں مسیلمہ اور طلیحہ کی مثالوں کو اس دعوای کے ثبوت میں پیش کیا جاتا ہے کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے۔کیونکہ یہ لوگ محض مرتد ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے اسلام کے خلاف تلوار اٹھائی اور مسلمانوں کی جماعت کو نا بود کر کے خود ملک عرب پر قبضہ کرنا چاہا۔مسیلمہ کے حالات میں مختصر اوپر بیان کر چکا ہوں۔اب طلیحہ کے حالات سنئے ! طلیحہ بن خویلد اسدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہی مرتد ہو گیا تھا۔سمیرا مقام میں قیام پذیر ہوا اور وہاں اس نے اپنے اردگر دایک لشکر جمع کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ اور بھی مضبوط ہو گیا۔قبائل غطفان و ہوازن وطے اس کے ساتھ ہو گئے۔جن لوگوں نے مدینہ پر پیش دستی کر کے چھاپہ مارا تھا ان کے دو حصے ہو چکے تھے۔ایک وہ جو ابرق میں مقیم تھے اور دوسرے وہ جو ذکی القصہ میں تھے۔طلیحہ نے اپنے بھائی کو مؤخر الذکر لوگوں پر افسر مقرر کر کے بھیجا۔عبس و ذبیان کو جب حضرت ابوبکر نے مدینہ کے پاس شکست دی تو وہ بھی طلیحہ سے آکر ملے اور اسی طرح بنوفزازہ نے مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں بعض کا مثلہ کیا بعض کو آگ میں جلا دیا۔جیسا کہ