قتل مرتد اور اسلام — Page 216
216 قتله الله یہاں اقتلوا کے معنے یہ کئے گئے ہیں ای اجـعـلـوه كـمـن قتل واحسبوه كمن مات وهلك ولا تعتدوا بمشهده ولا تعرجوا على قوله (اقرب الموارد ونهاية لابن الأثير ) اسی طرح حضرت عمر نے فرمایا من دعا الى امارة نفسه او غيره من المسلمين فاقتلوہ۔یہاں بھی فاقتلوہ کے یہ معنے کئے گئے ہیں ای اجعلوه كمن قتل ومات بان لا تقبلواله قولا وتقيموا له دعوة (نهاية لابن الأثیر ) اسی طرح ایک اور حدیث ہے اذا بویع لخلیفتین فاقتلوا لأخر منها یہاں بھی اقتلوا کے یہ معنے کئے گئے ہیں ای ابطلوا دعوته واجعلوه كمن مات۔(اقرب الموارد ونهاية لابن الأثير) پس اگر ہمارے مخالف مولوی صاحبان کو اسی بات پر اصرار ہے کہ باقی تمام امور کو بالکل نظر انداز کردیں اور الفاظ من بدل دینه فاقتلوا پر عمل کریں اور ان الفاظ میں کسی قسم کی شرط داخل کرنا گناہ سمجھیں۔یہاں تک کہ استتابہ کی شرط کو بھی ان الفاظ کی پیروی کر کے چھوڑ دیں (حالانکہ استنتابہ کی شرط با وجود ان الفاظ میں مذکور نہ ہونے کے اُن کے نزدیک مسلمہ ہے اور یہ امر ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ استنابہ کی شرط کو تو وہ اس حدیث کے الفاظ میں اپنی طرف سے بڑھانا جائز قرار دیتے ہیں مگر محاربہ کی شرط جو قتل مرتد کی دوسری احادیث میں صراحۃ موجود ہے اور قرآن شریف کی آیت کی رو سے ضروری ہے اس کا بڑھانا حرام سمجھتے ہیں ) تو اُن کے لئے دوسری راہ کھلی ہے کہ فاقتلوہ کے وہ معنی لے لیں جواحادیث مندرجہ بالا میں قتل کے لئے کئے گئے ہیں۔اس طرح اُن کا اس حدیث پر بھی عمل ہو جائے گا اور قرآن شریف کو بھی کالعدم قرار نہیں دینا پڑے گا۔قتل مرتد اور صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حامیان قتل مرتد نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے