قتل مرتد اور اسلام — Page 17
17 نہیں رکھتے۔ان کے دل تو ہیں مگر ان کے ذریعہ سے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں تو ہیں مگر ان کے ذریعہ سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان تو ہیں مگر ان کے ذریعہ سے وہ سنتے نہیں۔یہ لوگ چار پایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر۔اصل بات یہ ہے کہ یہ بالکل جاہل ہیں۔پس قرآن شریف شروع سے لے کر آخر تک انسان کو اپنی عقل اور دانش اور آنکھوں اور کانوں اور غور وفکر سے کام لینے کی ترغیب دیتا ہے اور ہر ایک بات دلیل کے ساتھ منواتا اور ہر ایک حکم کی حکمت بیان فرماتا ہے۔پھر یہی نہیں کہ قرآن شریف خود دلائل سے اپنے دعوی کی سچائی ثابت کرتا ہے بلکہ حق کے مخالفوں سے بھی دلائل کا مطالبہ کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے:۔قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنْتُمْ صَدِقِينَ (البقرة: 112) (اے پیغمبر ) تو انہیں کہہ دے کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔پھر فرماتا ہے:۔وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلُ بِهِ سُلْطَنَا وَ مَا لَيْسَ لَهُمْ بِهِ عِلْمٌ (الحج: 72) اور وہ لوگ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے لئے اس نے کوئی دلیل نہیں اُتاری اور جن کے متعلق ان کو کسی قسم کا کوئی علم حاصل نہیں۔پس کیا یہ ظلم نہیں کہ ایسے دین کی نسبت جس کا دارو مدار دلائل اور براہین پر ہے اور جو عین فطرت صحیحہ کا نقشہ ہے اس کی نسبت یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اُن تمام لوگوں کے سروں پر جو اس کو قبول کریں ایک شمشیر برہنہ آویزاں رکھتا ہے اور ہر آن ان کو اس کی طرف سے یہ دھمکی مل رہی ہے کہ اگر تم مجھے ترک کرنے کا خیال بھی کرو گے تو یاد رکھو یہی شمشیر تمہارے سر پر گرے گی اور تمہیں ہلاک کر دے گی۔