قتل مرتد اور اسلام — Page 178
178 کی۔ہاں اب ایک تازہ معاہدہ اس سے ہوا ہے دیکھئے اب وہ کیسا معاملہ کرتا ہے؟ اپنے عہد پر قائم رہتا ہے یا نہیں۔ابوسفیان کہتا ہے کہ صرف یہ الفاظ تھے جو میں اپنے جوابات میں اپنی طرف سے بڑھا سکا۔اور کوئی موقع مجھے ایسا نہ ملا کہ میں کوئی ایسی بات کہہ سکوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف پڑے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ جو سوالات ہر قل قیصر روم نے اپنے دربار میں ابوسفیان سے کئے ان میں ایک سوال ارتداد کے متعلق بھی تھا۔ہر قل نے ابوسفیان سے سوال کیا کہ لوگ اس نبی کا دین قبول کرنے کے بعد مرتد ہوتے ہیں یا نہیں ؟ تو اس نے جواب دیا کہ نہیں۔اب اگر یہ واقعہ ہے کہ ارتداد کے روکنے کے لئے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ ہر ایک شخص جو اسلام لانے کے بعد ارتداد اختیار کرے اس کو قتل کردو تو ابوسفیان ضرور اس امر کا ذکر ہر قتل سے کرتا۔وہ تو اس تاڑ میں لگا ہوا تھا کہ کوئی مفید مطلب بات مجھے مل جائے تو میں اسے بیان کروں۔بھلا وہ ایسے موقع کو کیوں اپنے ہاتھ سے جانے دیتا۔وہ ضرور کہتا کہ ہاں صاحب! مرتد تو نہیں ہوتے مگر اس کی یہ وجہ ہے کہ اس نے حکم دے رکھا ہے کہ جو شخص اس کے دین سے ارتداد اختیار کرے گا اس کو قتل کیا جائے گا۔پس ہر قل قیصر روم کے ساتھ ابوسفیان کا تاریخی مکالمہ بھی اس امر کی ایک قوی دلیل ہے کہ ارتداد کے لئے مرتدین کو قتل کرنے کا کوئی حکم اسلام میں جاری نہ تھا۔چوتھا ثبوت۔میں خدا تعالی کا ہزار شکر کرتا ہوں کہ اس نے اپنے فضل اور رحم سے اس دعوی کے پاش پاش کرنے کے لئے اسلام میں مرتد کے لئے قتل کے لئے شرعی حد مقرر کی گئی ہے ایک ایسا حربہ عطا فرمایا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی کاری حربہ خیال میں لانا بھی مشکل ہے۔یہ ایسا تیز حربہ ہے کہ اس کے سامنے قتل مرتد کا عقیدہ ایک طرفۃ العین کے لئے بھی ٹھہر نہیں سکتا۔ان زبر دست دلائل میں سے ایک دلیل جو اس غلط عقیدہ کو اس طرح اڑا دیتی ہے