قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 159 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 159

159 گے اور قرآن شریف کو ان احادیث پر مقدم رکھیں گے۔یہ ہے وہ معیار جو ہم نے موجودہ بحث میں امر زیر بحث کے تصفیہ کے لئے پیش کیا ہے۔مگر حامیان قتل مرتد اس معیار کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اور ان کا اس معیار کوقبول نہ کرنا اس امرکا قطعی اور یقینی ثبوت ہے کہ وہ ان روایات کو قرآن شریف کی صریح تعلیم کے خلاف دیکھتے ہیں اور اگر وہ قرآن شریف کا معیار قبول کر لیں تو انہیں ماننا پڑتا ہے کہ کسی مرتد کو محض ارتداد کے لئے قتل کرنا جائز نہیں۔اس لئے وہ اس معیار کو ہی قبول نہیں کر سکتے اور ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم ان روایات کو انہی معنوں میں قبول کر لیں جو وہ ان روایات کی طرف منسوب کرتے ہیں اور قرآن شریف کی روشنی میں ان روایات کو نہ جانچیں۔میں فی الحال حامیان قتل مرتد پر یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر بفرض محال اس معیار کونرالا بھی کہا جاوے پھر بھی یہ ایک ایسا معیار ہے کہ جس کو ہر ایک مومن بشرح صدر قبول کرے گا۔اور اگر کسی شخص کا سینہ نور ایمان سے خالی ہے تو وہ بھی معقولی رنگ میں مجبور ہوگا کہ اس اصول کو صحیح تسلیم کرے۔کیونکہ جو معیار ہماری طرف سے پیش کیا گیا ہے اس کی معقولیت ایسے زبر دست دلائل سے ثابت ہے کہ کوئی ادنی تدبر سے کام لینے والا انسان بھی خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو اس سے انکار نہیں کر سکتا اور مومن کی تو شان ہی نہیں کہ وہ اس کے آگے سر تسلیم خم نہ کرے۔پہلی دلیل جو اس معیار کی صداقت کو ثابت کرتی ہے یہ ہے کہ اگر قرآن کریم وہ یقینی اور قطعی کلام الہی ہے جس میں انسان کا ایک نقطہ یا ایک شعشہ تک دخل نہیں اور وہ اپنے الفاظ اور معانی کے ساتھ خدا تعالیٰ کا ہی کلام ہے اور کسی فرقہ اسلام کو اس کے ماننے سے چارہ نہیں۔اس کی ایک ایک آیت اعلیٰ درجہ کا تو اتر اپنے ساتھ رکھتی ہے۔وہ وحی متلو ہے جس کے حرف حرف گنے ہوئے ہیں۔وہ باعث اپنے اعجاز کے بھی تبدیل اور تحریف سے محفوظ ہے۔لیکن احادیث تو انسانوں کے دخل سے بھری ہوئی ہیں جو ان میں صحیح کہلاتی ہیں