قتل مرتد اور اسلام — Page 105
جواب ہے؟ 105 → ان تمام بزرگوں نے جنہوں نے اس وقت قتل مرتد کی حمایت میں قلم اٹھایا ہے آزادی ضمیر کے سوال پر بہت لے دے کی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ان کی جرح پر بھی ایک نظر کی جائے۔آزادی ضمیر کے اصول پر سب سے زیادہ جرح کرنے والا اخبار الجمعیۃ ہے جو جمعیۃ العلماء کا آفیشل آرگن ہے۔میں اس کی جرح کو ذیل میں نقل کرتا ہوں۔اس جرح سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو یہ لوگ جانتے ہی نہیں کہ عرف عام میں آزادی ضمیر کس چیز کا نام ہے اور قرآن شریف کی رُو سے اس کا مفہوم کیا ہے یا عمد اجہالت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔الجمعية نے آزادی ضمیر کے متعلق کئی شقیں قائم کی ہیں اور ہر ایک شق پر الگ الگ جرح کی ہے اور اس کی ساری جرح کا لب لباب یہی نکلتا ہے کہ وہ یا تو آزادی ضمیر کا مفہوم ہی نہیں جانتایا جان بوجھ کر دھوکہ دیتا ہے۔مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ ہمیں الزام دیتا ہے کہ ہم جانتے ہی نہیں آزادی ضمیر کی کیا حقیقت ہے۔اب میں اس کی ایک ایک شق کو ناظرین کے سامنے پیش کرتا ہوں۔شق اول اگر ضمیر کی آزادی کا یہ مطلب لیا جاوے کہ ہر فر د جو رائے قائم کرے اور واقعات پر جوحکم لگائے اور مقدمات سے جو نتائج وہ نکالے وہ اس کے حق میں صحیح اور درست ہیں اور ہر شخص اپنی رائے پر عمل کرنے کا مکلف ہے۔کسی دوسرے کی رائے کوسنا، مانا عمل کرنا ضروری نہیں تو اس کا بطلان بدیہی اور واضح ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ضمیر کی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ جو اس شق میں بیان کیا گیا ہے۔جو لوگ آزادی ضمیر کے حامی ہیں ان میں سے کسی کا بھی یہ خیال نہیں کہ ہر یک شخص کی رائے ضرور درست اور صحیح ہوتی ہے اور نہ کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ کسی