قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 98 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 98

98 بل بیان ان توبتهم لا تتم ولا تحصل الا بقتل النفس وانما كان كذلك لان الله تعالى أوحى الى موسى ان توبة المرتد لا تتم الا بالقتل یعنی تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ اس آیت میں یہ مراد نہیں کہ قتل نفس کے ذریعہ تو بہ کی تفسیر کی گئی ہے بلکہ یہاں یہ بیان ہے کہ ان کی تو بہ اسی وقت پوری ہوسکتی ہے اور حاصل ہو سکتی ہے جبکہ نفس کو قتل کیا جائے اور یہ بات اس طرح اس لئے تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی کہ مرتد کی تو بہ تب ہی مکمل ہوتی ہے جب کہ اسے قتل کیا جائے۔اس تفسیر کی رُو سے یہ آیت حامیان قتل مرتد اپنی تائید میں پیش نہیں کر سکتے۔کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قتل تو بہ کا ایک جز سمجھا جاتا تھا اور ایک قسم کا کفارہ تھا۔مگر مرتد کے لئے جو قتل ہمارے مولوی صاحبان تجویز کرتے ہیں وہ ارتداد کا کفارہ نہیں ہے اور نہ وہ تو بہ کا قائمقام سمجھا جاتا ہے۔اس لئے اس قتل کو اس قتل سے حسب بیان تفسیر مذکور کوئی مناسبت نہیں۔پھر روح البیان جلد اصفحہ ۹۴ میں لکھا ہے :۔فقتل منهم سبعون الفا فكان من قتل شهيدا ومن بقى مغفورة ذنوبه و اوحى الى موسى انى ادخل القاتل والمقتول الجنّة هذا على رواية ان القاتل من المجرمين على ان معنى۔فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ۔ليقتل بعض المجرمين بعضا فالقاتل هو الذي بقى من المجرمين بعد نزول امر الكف عن القتل۔روى ان الامر بالقتل من الاغلال التي كانت عليهم وهي المواثيق اللازمة لزوم الغلّ ومن الاصر وهوًا لاعمال الشاقة كقطع الاعضاء الخاطئة وغيرها فهذه الامور رفعت عن هذه الامة تكريمًا للنبي