قتل مرتد اور اسلام — Page 97
97 (۲) اس مثال میں یہ بھی ضروری ہو کہ مرتد کو تو بہ کا موقع دیا جائے اور توبہ کی تلقین کی جائے تا کہ فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمُ کے الفاظ بھی اس مثال پر چسپاں ہوسکیں۔(۳) اس مثال میں یہ بھی ضروری ہو کہ وہ مرتد سچے دل سے تو بہ کرے اور اس امر کا کوئی شک اور شبہ نہ ہو کہ منافقانہ طور پر تو بہ کر رہا ہے۔کیونکہ جن لوگوں کا آیت زیر بحث میں ذکر ہے انہوں نے حسب اقرار مولوی صاحب بچی تو بہ کی اور سچے دل سے وہ اپنی غلطی پر نادم ہوئے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی۔(۴) اس مثال میں یہ بھی ضروری ہو کہ باوجود کچی تو بہ اور مخلصانہ ندامت اور پوری پشیمانی کے پھر بھی ایسے لوگوں کا جو اسلام کے ائمہ کہلاتے ہیں اس کے متعلق عام طور پر یہ فتویٰ ہو کہ اس کو قتل کیا جائے اور ساتھ ہی یہ بھی فتویٰ ہو کہ ایسا مقتول اخروی عذاب سے بچایا جائے گا۔کیونکہ جن مرتدین کا آیت زیر بحث میں ذکر ہے ان میں حسب بیان مولوی صاحب یہ سب باتیں پائی جاتی ہیں۔(۵) یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی ایک آدھ مثال نہ ہو بلکہ کئی اقسام کے مرتدین ہوں جن میں یہ سب شرطیں پائی جاتی ہوں اور پھر بھی وہ ائمہ اسلام کے نزدیک واجب القتل ہوں اور پھر جلتی بھی۔کیونکہ انہی شرائط کے ساتھ یہ آیت اس تفسیر کے ماتحت جو مولوی صاحب نے اس آیت کی کی ہے ایسی مثالوں پر چسپاں ہو سکتی ہے۔اس جگہ یہ بھی غیر مناسب نہ ہوگا کہ بعض بڑی بڑی تفاسیر کی طرف بھی رجوع کریں اور دیکھیں کہ ان تفاسیر کی رو سے مولوی صاحب کے اس خیال کی کہاں تک تائید ہوتی ہے اور آیا مفسرین بھی اس قتل کو ویسا ہی قتل قرار دیتے ہیں جو مرتد کے لئے تجویز کیا گیا ہے اور آیا ان کے نزدیک بھی مسلمان اس امر میں موسوی شریعت کے پابند ہیں۔تفسیر كبير بحواله روح البیان جلد ا صفحه ۹۳: - وقال في التفسير الكبير وليس المراد تفسير التوبة بقتل النفس