قندیل صداقت — Page 285
کے بعد آپ نے مصر ، حجاز ، بغداد اور بلاد روم کا سفر اختیار کیا۔لوگ آپ کو کامل ولی ، قطب زمان اور علم باطنی میں سند رکھنے والے مانتے ہیں۔فتوحات مکیہ میں مختلف مذاہب اور مسلک پر بحث کی گئی ہے۔فصوص الحکم تصوف اور فلسفے کے مسائل اور الہامات پر ایک مستند کتاب ہے۔آپ کی ڈیڑھ سو سے زیادہ تصانیف ہیں۔15- علامہ محمد بن یوسف الاندلسی علامہ محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان الغرناطی الجیانی۔الاندلسی 1256ء میں غرناطہ میں پیدا ہوئے اور 1344ء میں وفات پائی۔آپ نے قرآت، عربی ، حدیث اور تفاسیر کے متعلق تعلیم اپنے زمانہ کے بلند پایہ علماء سے پائی تھی۔ان کے متعلق ذکر ملتا ہے کہ 450 شیوخ سے انہوں نے حدیث کا علم سیکھا۔آپ بلند پایہ ادیب، مفسر ، محدث اور مؤرخ تھے۔علم نحو اور لغت میں بھی آپکو کمال حاصل تھا۔آپکی مشہور تصانیف البحر المحيط فى تفسير القرآن، الاعلام باركان اسلام، الفوائد و تكميل المقاصد فی النحو وغیرہ ہیں۔16- علامہ احمد بن عبد الحلیم ข آپ کا نام احمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام بن عبد الله بن الخضر بن محمد بن الخضر بن علی بن عبد اللہ بن تیمیہ الحرانی ثم الدمشقی الحنبلی شیخ الاسلام تقی الدین ابوالعباس تھا اور ابن تیمیہ کے لقب سے مشہور تھے۔آپ 661 ہجری میں حران کے مقام پر پیدا ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ دمشق کی طرف سفر کیا۔آپ نے 728 ہجری میں وفات پائی۔آپ نے دمشق اور مصر میں تعلیم حاصل کی۔قاہرہ کے قلعہ میں قید کئے گئے۔اسی طرح اسکندریہ اور دمشق میں بھی دو دفعہ قید کئے گئے۔آپ محدث ، حافظ ، مفسر ، فقیہ مجتہد مانے جاتے ہیں۔آپ کی چند مشہور تصانیف میں سے مجموعہ فتاویٰ ، السياسة الشرعيه في اصلاح الراعي والرعيه ، بيان الجواب الصحيح عن بدل دين المسيح ، منهاج السنة النبويه، الرسالة العرشيه وغيره ہیں۔17- علامہ علاؤ الدین علی المنتقی الہندی علامہ علاؤ الدین علی المنتقی بن حسام الدین الہندی 1480ء میں بمقام دکن (ہندوستان) میں پیدا ہوئے اور 1567ء میں آپ نے وفات پائی۔مدینہ منورہ میں تحصیل علم کے لئے مقیم رہے۔پھر ایک طویل عرصہ مکہ مکرمہ میں قیام کیا۔جہاں سے حدیث کی تعلیم حاصل کی۔آپ فقیہہ، محدث ، واعظ ، پرہیز گار، متقی عالم دین مشہور تھے۔آپ کی مشہور تصانیف کنز العمال ، ارشاد العرفان وعبارة الايمان البرهان الجلى فى معرفة الولى، الرق المرقوم فی غایات العلوم ہیں۔285