قندیل صداقت — Page 282
4- امام ابو داؤد سجستانی آپ کا نام سلیمان ہے۔ابو داؤد آپ کی کنیت ہے اور نسب نامہ سلیمان بن اشعث بن اسحاق بن بشیر بن شداد بن عمرو بن عمران الازری سجستانی ہے۔آپ 202ھ میں پیدا ہوئے اور 16 شوال 275ھ کو بصرہ میں فوت ہوئے اور وہیں دفن ہیں۔آپ کا آبائی وطن سجستان ہے۔حدیث کے لئے بغداد ، نیشا پور اور اصفہان کا سفر اختیار کیا۔حدیث میں مقتدی مانے گئے۔فقہ واجتہاد میں ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے۔بعض علماء نے آپ کو فقہ واجتہاد میں امام بخاری کے بعد دوسرا درجہ دیا ہے۔آپ کے شیوخ کی تعداد تین صد کے قریب ہے۔آپ کی مشہور تصانیف سنن ابی داؤد جو صحاح ستہ میں بھی شامل ہے ، کے علاوہ کتاب الناسخ والمنسوخ ، كتاب المسائل ، مسند مالك ، كتاب المصابيح والمصاحف ، كتاب التفسیر زیادہ مشہور ہیں تاہم آپ کی تصانیف کی مجموعی تعداد تقریباً 22 ہے۔5- امام مسلم بن الحجاج علامہ ابوالحسین بن مسلم القشیری بن دروین 206ھ میں پیدا ہوئے اور 24 رجب 261ھ کو وفات پائی۔خراسان کا مشہور شہر نیشاپور آپ کا وطن تھا۔ابتدائی تعلیم نیشا پور میں حاصل کی۔تحصیل علم کے لئے حجاز ، شام، مصر، یمن ، بغداد کا سفر اختیار کیا۔محدیثین کرام سے احادیث کو حاصل کیا۔امام مسلم نے جمع حدیث کے ضمن میں جس صحت کا اہتمام کیا، اس کے سبب امام مسلم کو علم حدیث میں امام مانا جاتا ہے۔آپ کی تصانیف صحیح مسلم شریف کے علاوہ کتاب مسند كبير ، كتاب الاسماء والكنى ، کتاب العلل ، کتاب اوہام المحدثین اور کتاب الطبقات وغیرہ ہیں۔6- امام ابن ماجه ย علامہ ابو عبد اللہ محمد بن یزید بن عبد اللہ ابن ماجہ الریعی قزوینی۔824ء میں ایران کے صوبہ آذربائیجان کے مشہور شہر قزوین میں پیدا ہوئے اور 886ء میں آپ نے وفات پائی۔حدیث نبوی کے لئے آپ خراسان، عراق، حجاز مصروشام کے لئے سفر کیا۔اس کے علاوہ کو فہ ، بغداد، ہمدان، نیشا پور وغیرہ بھی گئے۔آپ کے اساتذہ اور مشائخ کی تعداد 300 سے زائد تھی۔امام ابن ماجہ کی امامت ، جلالت شان کے ائمہ تک معترف تھے۔علامہ ذہبی، حافظ ابن کثیر اور حافظ ابن حجر نے آپ کی بہت تعریف کی ہے۔آپ نے تفسیر، حدیث اور تاریخ پر متعدد کتب تصنیف فرمائیں، جن میں سے التفسير ، سنن ابن ماجہ اور التاریخ زیادہ مشہور تصانیف و غیرہ ہیں۔6 282