قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 984 of 1460

قندیل ہدایت — Page 984

۳۴۸ 984 of 1460 ۲۔سلاطین ۴:۲ 348 سایہ تیرے سر پر سے اُٹھا لے گا ؟ واپس لوٹ کر بر دن کے کنارے کھڑا ہو گیا۔۱۴ تب اُس نے اُس الیشع نے جواب دیا کہ ہاں مجھے معلوم ہے مگر تم بات مت کرو۔چادر کو جو ایلیاہ پر سے گرگئی تھی کیا اور اس سے پانی کو مارا اور پھر پھر ایلیاہ نے کہا کہ اے الیشع ! تو نہیں ٹھہر کیونکہ خداوند پو چھا کہ خداوند، ایلیاہ کا خدا اب کہاں ہے؟ اور جب اُس نے پانی کو مارا تو وہ دائیں طرف اور بائیں طرف دوٹکڑوں میں تقسیم ہو نے مجھے پر سو جانے کو کہا ہے۔اس پر اُس نے جواب دیا کہ خداوند کی حیات کی قسم اور تیری گیا اور وہ پار چلا گیا۔جان کی سوگند میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔پس وہ پر یکو چل دیئے۔۱۵ اور بریجو کے نبیوں کی جماعت نے یہ دیکھا تو کہا کہ ایلیاہ اور یر یجو کے نبیوں کی ایک جماعت الیشع کے پاس گئی اور کی روح البیع پر ٹھہری ہوئی ہے اور وہ اُس کے استقبال کو آئے اور اُس سے پوچھا کہ کیا تجھے معلوم ہے کہ خداوند تیرے آقا کا سایہ اُس کے سامنے زمین تک جھک کر اُسے سجدہ کیا۔انہوں نے تیرے سر پر سے اُٹھا لینے والا ہے؟ کہا کہ دیکھ ! ہم جو تیرے خادم ہیں، ہمارے پاس پچاس تنومند اُس نے کہا کہ ہاں میں جانتا ہوں مگر تم بات مت کرو۔جوان ہیں۔اجازت دے کہ وہ جائیں اور تیرے آقا کو تلاش تب ایلیاہ نے الیشع سے کہا کہ تو یہیں ٹھہر کیونکہ خداوند کریں۔ممکن ہے کہ خداوند کی روح نے اُسے اٹھا کر کسی پہاڑ پر یا کسی وادی میں پہنچا دیا ہو۔اُس نے کہا مت بھیجو۔نے مجھے بردن جانے کو کہا ہے۔اُس نے جواب دیا کہ خداوند کی حیات کی قسم اور تیری جان لیکن اُنہوں نے یہاں تک ضد کی کہ اُس نے انکار کی سوگند میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔پس وہ دونوں آگے چل کرنے میں شرم محسوس کی۔اُس نے کہا کہ اچھا اُنہیں بھیج دو اور انہوں نے پچاس آدمی بھیج دیئے جنہوں نے تین دن تک اُسے دیئے۔۱۸ نبیوں کی جماعت کے پچاس آدمی گئے اور کچھ فاصلے تلاش کیا مگر نہ پایا۔اور جب وہ لوٹ کر الیشع کے پاس آئے پر اُس جگہ کی طرف منہ کر کے جہاں ایلیاہ اور الیشع بردن کے جویریکو میں ٹھہر اہو ا تھا تو اُس نے اُن سے کہا کہ کیا میں نے تمہیں کنارے رُکے ہوئے تھے کھڑے ہو گئے۔اور ایلیاہ نے اپنی جانے سے نہیں روکا تھا ؟ ۱۹ چادر لی اور اُسے لپیٹ کر پانی پر مارا اور پانی دائیں اور بائیں پانی کا پاک صاف ہو جانا طرف دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور وہ دونوں خشک زمین پر چل کر 19 اور اُس شہر کے لوگوں نے الیشع سے کہا کہ اے ہمارے آقا، جیسا کہ تو خود دیکھ رہا ہے، یہ قصبہ اچھی جگہ واقع ہے لیکن پانی پار ہو گئے۔اور جب وہ دریا کے پار پہنچ گئے تو ایلیاہ نے الیشع سے کہا خراب ہے اور زمین بنجر ہے۔کہ اس سے پیشتر کہ میں تجھ سے لے لیا جاؤں بتا کہ میں تیرے ۲۰ اُس نے کہا کہ میرے پاس ایک نیا پیالہ لا ؤ اور اُس میں لیے کیا کروں؟ الیشع نے جواب دیا کہ مجھے تیری روح کا دو گنا نمک ڈال دو۔پس وہ اُسے اُس کے پاس لے آئے۔حصّہ ورثہ میں ملے۔پھر وہ پانی کے چشمہ پر گیا اور یہ کہتے ہوئے نمک اُس میں ایلیاہ نے کہا کہ تو نے ایک مشکل چیز مانگی ہے۔پھر بھی ڈال دیا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ میں نے اس پانی کو ٹھیک کر دیا جب تو دیکھے کہ میں تجھ سے جدا کیا جارہا ہوں تو تیرے لیے ایسا ہی ہے۔آئندہ یہ کبھی موت کا یا زمین کے بنجر پن کا باعث نہ ہوگا۔۲۲ سو الیشع کے کلام کے مطابق جو اُس نے فرمایا تھا وہ پانی ہوگا ورنہ نہیں۔اور جب وہ یا تیں کرتے ہوئے جا رہے تھے تو اچانک آج تک ٹھیک ہے تیشے ایک آتشین رتھ اور آتشین گھوڑے نمودار ہوئے اور اُن دونوں کو الیشع کا مذاق اُڑایا جانا جدا کر دیا اور ایلیاہ ایک بگولے میں آسمان کی طرف اُٹھا لیا گیا۔۲۳ وہاں سے البقیع بیت اہل گیا اور جب وہ اپنی راہ چلا جا البقیع نے یہ دیکھا تو چلا کر کہا کہ میرے ابو ! میرے ایو ! اسرائیل رہا تھا تو کچھ نو جو ان اُس قصبہ سے باہر آئے اور اُس کا مذاق اُڑانے کے رتھ اور اُس کے سوار ! اور الیشع نے اُسے پھر نہ دیکھا۔تب اُس لگے اور کہنے لگے کہ جاؤ اے گنجے سر والے! جا کے گنجے سر والے! نے اپنے کپڑوں کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔۲۴ اُس نے پیچھے مڑ کر اُن پر نگاہ ڈالی اور خداوند کے نام سے اُن اُس نے اُس چادر کو جو ایلیاہ پر سے گر پڑی تھی اٹھا لیا اور پر لعنت بھیجی۔تب جنگل میں سے دور کچھ نکل کر آئے اور انہوں