قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 784 of 1460

قندیل ہدایت — Page 784

المنقذ من الضلال 784 of 1460 ۱۲۴ مجموعه رسائل شتر الی جلد سوم مجھتے کے رنگوں اور شکلوں کا علم نہ ہوتا اور اس کے روبرو اول ہی مرتبہ ان امور کا ذکر کیا جاتا تو وہ اُن کو ہرگز سمجھتا اور اُن کا اقرار نہ کرتا۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی خلقت کے لئے یہ بات قریب الفم کر دی ہے کہ اُن کو خواب خاصیت خاصیت نبوت کا ایک نمونہ عطا فرمایا ہے۔جو خواب ہے۔قوت کا نمونہ ہے کیونکہ سونیوالا آیندہ ہونے والی بات کو یا تو صریحاً معلوم : کرلیتا ہے یا بصورت تمثیل جس کا انکشاف بعد ازاں بذریعہ تعبیر کے ہوجاتا ہے۔اس بات کا اگر انسان کو خود متجریہ نہ ہوا ہوتا اور اُن کو یہ کہا جاتا کہ بعض انسان مردہ کی مانند بے ہوش ہو جاتے ہیں اور اُس کی قوت حق وش نوائی و بینیائی زائل ہو جاتی ہے۔پھر وہ نصیب کا ادراک کرنے ہیں تو انسان ضرور اس بات کا انکار کرتا اور اس کے محال ہونے پر دلیل قائم کرتا ہے اور یہ کہتا کہ قومی جتی ہیں اسباب ادراک ہیں یہیں جس شخص کو خود ان اسباب کی موجودگی و احضار کی حالت میں نہیں اشیا کا ادراک نہیں ہو کہ تہا تو یہ بات زیادہ مناسب اور زیادہ صحیح ہے۔کہ اُن قومی کے معطل ہونے کی حالت میں تو ہرگز ہی ادراک نہ ہو۔مگریہ ایک قسم کا قیاس ہے جس کی تردید وجود اور مشاہدہ سے ہوتی ہے۔جس طرح حقل ایک حالت منجملہ حالت بار انسانی ہے جس میں ایسی۔نظر حل ہوتی ہے کہ اُس کے ذریعہ سے انواع محصولات نظر آنے لگتے! ہیں۔جن کی اولاک سے جو اس بال بیکار ہیں۔اسی طرح نبوت سے مراد ایک ایسی حالت ہے جس سے ایسی نظر نورانی چہل ہو جاتی ہے یہ کہ ۳۲۹