قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 378 of 1460

قندیل ہدایت — Page 378

378 of 1460 ۳۴۲ نه آنهوں نے ان کو قتل کیا اور نہ صلیب پر مارا ، لیکن ان پر (صلیب پر مار ڈالنے کی شبیہہ کر دی گئی اور جو لوگ که اس اختلاف کرتے ہیں البتہ وہ اس بات میں شک میں پڑے ہیں۔مين ان کو اس کا یقین نہیں ہے بجز گان کی پیروی کے۔انھوں نے ان كو يقيناً قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے اپنے پاس ان کو آٹھا لیا ،، پہلی تین آیتوں سے حضرت عیسی کا اپنی موت سے وفات پانا علانیه ظاهر هے مگر جو کہ علمائے اسلام نے به تقلید بعض فرق نصاری نے قبل اس کے که مطلب قرآن مجید پر غور کریں یه تسلیم کر لیا تها که حضرت عیسی زنده آسمان پر چلے گئے ہیں۔انھوں نے ان آیتوں کے بعض الفاظ کو اپنی غیر محقق تسلیم کے مطابق کرنے کو بے جا کوشش کی ہے۔پہلی آیت صاف لفظ "متوفیک ،، کا واقع ھے جس کے مين معنی عموماً ایسے مقام پر موت کے لیے جاتے ہیں۔خود قرآن مجید سے اس کی تفسیر پائی جاتی ہے جہاں خدا نے فرمایا هے " الله يتو في الانفس حين موتھا ، ابن عباس اور محمد بن اسحاق نے که تفسیر کبیر میں لکھا ھے "متوفیک" کے معنی بھی جیسے " ممیتک “ کے لیے ہیں۔- حال لفظ " یای توفیتی ، کا جو دوسری آیت میں ھے اور جس کے صاف معنی په هیں که جب تو نے مجھ کو موت دی یعنی نگهبان تھا۔میں می گیا اور ان میں نہیں رھا تو تو اُن کا پہلی آیت میں اور چوتھی آیت میں لفظ " " رفع " ،، کا بھی آیا ھے جس سے حضرت عیسی کی قدر و منزلت کا اظہار مقصود ہے نه یه که ان کے جسم کو اٹھا لینے کا۔تفسير كبير میں بھی