قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 168 of 1460

قندیل ہدایت — Page 168

شعله مستور 168 of 1460 حضرت عیسی راے عیسی میں تجھے وفات دینے والا اور بلند درجات عطا کرنے والا ہوں) وَ مُطْهَرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُ وا یعنی تجھے ان کفار کے اتہامات سے پاک اور صاف کرنے والا ہوں (۳/۵۳)۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسی کے زندہ آسمان پر اُٹھا یہ تصور بعد کی پیداوار ہے تے جانے کا تصور مذ ہب عیسائیت میں بعد کی اختراع ہے۔یہودیوں نے مشہور کر دیا اور بظاہر نظر بھی ایسا ہی آتا تھا) کہ انہوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر قتل کر دیا ہے۔حواریوں کو معلوم تھاکہ حقیقت حال یہ نہیں لیکن وہ بھی یہ تقاضائے مصلحت اس کی تردید نہیں کر سکتے تھے اور اصل تو یہ ہے کہ واقعہ تصلیب کے بعد خود حواریوں کے متعلق بھی بالتحقیق معلوم نہیں کہ وہ کہاں رہنے اور کیا کرتے رہے۔کچھ عرصے کے بعد حالات نے پلٹا کھایا اور ان کا نام پھر سننے میں آیا اس دوران میں یہ خیال عام ہوچکا اور خستگی حاصل کر چکا تھا کہ حضرت مسیح مصلوب ہو چکے ہیں۔جب حواریوں کو قدرے سکون حاصل ہوا تو انہوں نے مختلف روایات کو یکسب جاکر کے اناجیل مرتب کیں دسب سے پہلی انجیل شاہ میں مرتب ہوئی تھی۔اس وقت یہ کہنا کہ جس شخص کو صلیب دی گئی تھی و حضرت مسیح انہیں کوئی اور تھا۔ایک ایسا دھولے تھا جس کی ہر طرف سے تردید ہی نہیں بلکہ تضحیک) ہوتی۔اس لئے اس عام خیال کی تردید کئے بغیر ، حضرت مسیح کی عظمت کو برقرار رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہو سکتا تھا کہ ان کے متعلق یہ مشہور کر دیا جائے کہ وہ صلیب کے تیسرے دن جی اُٹھے اور پھر آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔اناجیل میں دیکھئے متقی اور یوحنا کی اناجیل میں آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے واقعہ کا کوئی ذکر نہیں۔مرتس اور تو قا میں اخیر میں صرف ایک فقرہ میں اس کا ذکر آیا ہے، عرض خداوند یسوع ان کام کرنیکے بعد سان پراٹھایاگیا درس ہوتا ہے ، حتی کہ حضرت مسیح کے دوبارہ جی اٹھنے کے متعلق بھی تمام اناجیل میں صرف مریم محمد یعنی ہی عینی شاہد ہے ارینان ص ۲ ، اور مریم محمد یعنی وہی ہے جس پر ما میں سے اناجیل کے بیان کے مطابق حضرت مسیح نے سات بدروحوں کو نکالا تھا مستی ۱۶/۹)۔عیسائیوں نے رَفَعَ إِلَى السَّمَاءِ کا جو عقیدہ پھیلایا اس نے نہ صرف حضرت مسیح کی عظمت اور بزرگی کو ہی مقام الوہیت تک پہنچا دیا بلکہ شکستہ خاطر افسردہ اور پر مردہ جماعت کے لئے مایوسیوں کی تاریکی میں اُمید کی ایک کرین بھی پیدا کر دی کہ وہ آنیوالا آئے گا اور اس کے ساتھ ہی انہیں عظمت و اقتدار کی ایک نئی زندگی عطا کرے گا " آنے والے " کے عقیدہ کے متعلق ختم نبوت" -