قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 167 of 1460

قندیل ہدایت — Page 167

شعله مستور 167 of 1460 ۸۹ حضرت عیسی *1 ط "يَعْرُجُ إِلَيْهِ " وہی ہے جو دَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ ہے۔یہاں واضح ہے کہ یعرج الیہ“ (اس کی طرف بلند ہوتا ہے اسے یہ مفہوم نہیں کہ وہ امور کسی سمت کو اوپر کی طرف چڑھ جاتے ہیں بلکہ یہ کہ اپنی ابتدائی منازل سے رفتہ رفتہ بلند ہو کر پختگی تک جاپہنچتے ہیں۔اسی حقیقت کو دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ العَمَلُ الصَّادِمُ يَرْفَعُهُ (۳۵/۱۰) اُسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور عمل صالح اسے بند کرتا ہے یعنی وہ اعمال جن سے انسان میں آگے بڑھنے ارتقائی منازل طے کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے بلند ہوکر اس کی طرف پر ہے ہیں ، یعنی وہ انہیں مقامات بلند عطا کرتا ہے۔اس سے بھی واضح تر الفاظ میں دیکھئے۔جب حضرت ابراہیم نے بابل سے فلسطین کی طرف ہجرت کی ہے جس کی تفصیل جوئے نور میں گذر چکی ہے تو فرمایا، اتي مُهَاجِرُ إِلى رَی (۲۹/۲۲) میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں سورہ صفت میں ہے قَالَ إِنِّي ذَاهِب إلى رَبِّي سَيَهْدِينِ (۳۷/۹۹) کہا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے راستہ دکھائے گا۔ان مقامات میں الى رتی کے ٹکڑے پر غور فرمائیے۔مطلب با کل واضح ہے۔حضرت ابراہیم بجرت کر کے آسمان کی طرف تشریف نہیں لے گئے تھے ، بلکہ اس طاغوتی ماحول کو چھوڑ کر ایسے مقام کی طرف منتقل ہو گئے تھے جہاں انہیں اپنے اللہ کی حفاظت میسر تھی جہاں وہ اس کا نامہ آزادی سے لے سکتے اور اس کے پیغام کی تکمیل کر سکتے تھے۔ان تصریحات سے واضح ہے کہ يَعْرُجُ إِلَيْهِ اور آلَيهِ يَصْعَدُ اور مُهَاجِرُه ذَاهِب الی رتی میں اِلی سے مراد کسی خاص مقام کی سمت نہیں بلکہ تکمیل مدارج ہے۔اسی طرح قصّہ حضرت عیسی من رَفَعَهُ الله A WLAN میں الیہ سے مفہوم کوئی خاص سمت نہیں، بلکہ بلندگی مناج ہے۔اور یہ لفظ ایک خاص مقصد کے پیش نظر استعمال کیا گیا ہے۔یہودیوں کا زعم باطل تھا کہ انہوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر لٹکا دیا تھا جس سے آپ (معاذ اللہ ) لعنت کی موت مرے تھے بعنت کے معنی ہیں دوری دانعامات خداوندی سے دوری یا محرومی)۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت عیسی صلیب دیے ہی نہیں گئے (ما صلبوه ) بلکہ وہ اپنی طبعی موت سے وفات پاگئے (متوفيك) اور انہیں انعامات خداوندی سے دوری نہیں بلکہ قرب حاصل ہے ( بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ - اب سورۃ آل عمران کے ان الفاظ کو پھر سے سامنے لائے ، رائی مُتَوَقِنَكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى)