قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 164 of 1460

قندیل ہدایت — Page 164

164 of 1460 شعار استور حضرت عیسی کی سی بے ہوشی ہوئی تو ہوش میں آجانے کے بعد پھر وہی پہلی سی (باخبری) کی حالت پیدا ہو جاتی۔اس سے واضح ہے کہ حضرت عینی کے ضمن میں کوئی کے معنی وفات پا جانا ہیں، سو جانا نہیں اس کی تائید سورۃ الصف کی اس مشہور آیت سے بھی واضح ہوتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ و مبشرا برسون يأتي من بعدِی اسْمُةٌ أَحْمَدُ (44) ( میں بشارت دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اور جس کا اسم گرامی احمد ہوگا۔" میرے بعد کا مفہوم بالکل واضح ہے۔اب اسے سورۃ مائدہ کی مندرجہ صدر آیت کے ساتھ ملا کر دیکھئے۔آپ نے فرمایا کہ " جب تک میں ان میں رہا ان کی حالت سے با خبر رہا۔پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو ہی ان کا نگہبان تھا۔بات صاف ہے کہ اس وفات کے بعد آپ دنیا سے تشریف لے گئے (یعنی وفات پاگئے اور پھر آپ کے بعد وہ رسول اکرم تشریف لائے جن کی بشارت آپ نے دی تھی۔ان تصریحات سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی کے اب تک زندہ ہونے کی تائید قرآن کریم سے نہیں ملتی۔قرآن کریم آپ کے وفات پا جانے کا بصراحت ذکر کرتا ہے۔اب دیکھئے نرفع ( آسمان پر چڑھ جانے) کا مفہوم۔اس کے لئے ایک تو رفع الى السماع السورة آل عمران کی اسی اس کو سامنے رکھتے جس کو پر درج کیا جاچکا ہے إنّي مُتَوَقِيكَ وَنافِعُكَ اِلَى ) اور دوسرے سورۃ نسار کی یہ آیت بَلْ دَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ (۳۱۵۸)۔حضرت عینی کے زریعے کا ذکر انہی دو آیات میں آیا ہے۔رفع کے معنی ہیں اوپر اٹھانا بلند کرنا۔سورۃ رحمہ میں ہے اللهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَوتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا (۱۳/۲) اللہ وہ ہے جس نے بغیر ایسے ستونوں کے جنہیں تم دیکھ سکوں آسمانی گروں کو بلند کیا یا مثلاً وَرَفَعْنَا فَوْتَكُمُ الطُّور (۲/۶۳) " ہم نے تمہارے اوپر طور کو - بلند کیا۔حضرت یوسف کے تذکارِ جلیلہ میں ہے وَ رَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ (۱۲/۱۰۰)۔اس نے اپنے والدین کو تخت پر اونچا بٹھایا۔پھر درجات کی بلندی کے لئے بھی یہی لفظ آیا ہے۔مثلاً و هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمُ خَليفَ الْوَرْضِ وَ رَفَعَ بَعُضَكُم فَوقَ بَعْضٍ دَرَجَةٍ ( ل ) اللہ وہ ہے جس نے تمہیں زمین میں جانشین بنایا اور تم میں ایک کو دوسرے سے درجات میں بلند کیا۔اور اُس صدرنشین بزم کائنات ( علیہ الصلوة والسلام کے ذکر کی بلندی کے لئے بھی رو رفعنا )