قندیل ہدایت — Page 163
شعله مستور 163 of 1460 حضرت عیسی پھر جب رات بھر سو لیتے ہو، تو ) دن کے وقت تمہیں اٹھا کھڑا کرتا ہے تاکہ (بدستور کد و کاوش میں لگ جاؤ اور زندگی کی مقررہ میعاد پوری ہو جائے۔اس کی تفسیر سورہ زمر میں ان الفاظ میں آتی ہے۔اللهُ يَتَوَقَى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَسُتُ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ التِي قَضَى عَلَيْهَا المَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأَخْرَى إِلَى أَجَلٍ مستَى اِنَّ فِي ذلِكَ لويتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (۳۹/۲۲) ٥ اور دیکھو اللہ نفوس کو ( دو طرح پر) وفات دیتا ہے (ایک تو ان کی موت کے وقت اور (دوسرے) جو مرے نہیں، ان کی نیند میں۔پھر انہیں روک رکھتا ہے جن پر موت کا حکم کیا ہوتا ہے اور دوسروں کو ایک مقررہ وقت تک کے لئے بھیج دیتا ہے۔یقینا اس میں اس قوم کے لئے بڑی ہی نشانی ہے جو غور وفکر کی عادی ہو۔CONSCIOUS MIND ظاہر ہے کہ ان مقامات میں " نفس" کے معنی جان کے نہیں بلکہ نفس شعوریہ کے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ سجالت نیند اور بحالت موت نفس شعوریہ (احساس و ادراک کی قوتوں کو معطل کر دیتا ہے۔نیند کی صورت میں تو اس کھوئے ہوئے شعور و ادراک کو واپس لوٹا دیا جاتا ہے، لیکن ہوتے کی صورت میں واپس نہیں لوٹایا جاتا جب تک پھر دوسری زندگی عطا نہ ہو، اس لئے کہ حالت نیند میں انسان میں سوائے شعور و ادراک کے اور سب کچھ موجود ہوتا ہے۔ان معانی کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت عیسی کے متعلق سورہ آل عمران اور سورۃ مائدہ کی مندرجہ صدر آیات میں توئی کے معنی موت نہیں بلکہ نیند کی کسی بے ہوشی کے ہیں اور اس سے یہ مراد لی جاسکتی ہے کہ آپ کو صلیب دی گئی لیکن آپ صلیب پر بے ہوش ہو گئے، مرے نہیں اور لوگوں کو سفیہ ہو گیا کہ آپ مرچکے ہیں یعنی لوگوں کا وہی خیال جس کا ذکر پہلے کیا جاچکا ہے، لیکن جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے، دیگر قرائن کے پیش نظر یہ صحیح نہیں قر آن کریم آپ کے صلیب دیئے جانے کی بصراحت تردید کرتا ہے (دما صلبوه) پھر سورہ مائدہ کی مندرجہ صدر آیت میں واضح الفاظ میں ہے کہ جب تک میں ان میں رہا ان کی حالت پر گواہ تھا۔اس کے بعد جب تو نے وفات دے دی تو پھر تو ہی ان کا نگہبان تھا۔" اس سے بھی ظاہر ہے کہ یہاں وفات سے مراد نیند کی کسی بے ہوشی نہیں بلکہ موت کی بے خبری ہے۔ورنہ اگر نیند