قندیل ہدایت — Page 1347
11+1 1347 of 1460 اعمال ۱۱:۶ 1101 ۲۶ والے ٹھہرو گے۔اُنہوں نے اُس کی صلاح مان لی۔کا ہن سب کے سب حیران رہ گئے کہ اب کیا ہوگا۔۲۵ اسی وقت کسی نے آکر خبر دی کہ دیکھو وہ آدمی جنہیں تم ۴۰ اور رسولوں کو اندر بلا کر انہیں کوڑے لگوائے اور تاکید کی کہ نے جیل میں ڈالا تھا ہیکل میں کھڑے لوگوں کو تعلیم دے رہے آئندہ بیسوع کا نام لے کر کوئی بات نہ کریں اور انہیں جانے دیا۔ہیں۔اس پر ہیکل کا سردار اپنے سپاہیوں کے ساتھ گیا اور رسولوں ۱ رسول عدالت عالیہ سے چلے گئے۔وہ اس بات پر خوش کو پکڑلایا لیکن زبردستی نہیں کیونکہ وہ لوگوں سے ڈرتے تھے کہ کہیں تھے کہ یسوع کی خاطر بے عزت ہونے کے لائق سمجھے گئے۔۔۴۲ وہ وہ انہیں سنگسار نہ کر دیں۔تعلیم دینے سے باز نہ آئے بلکہ ہر روز ہیکل میں اور گھروں میں ۲۷ انہوں نے رسولوں کو لا کر عدالت عالیہ میں پیش کیا اور خوشخبری سناتے رہے کہ یسوع ہی مسیح ہے۔سردار کا ہن نے اُن سے کہا: ۲۸ ہم نے تمہیں سخت تاکید کی تھی کہ سات مددگاروں کا انتخاب یسوع کا نام لے کر تعلیم نہ دینا۔اس کے باوجود تم نے سارے اُن دنوں جب شاگردوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی تو یروشلیم میں اپنی تعلیم پھیلا دی ہے اور ہمیں اُس شخص کے خُون کا یونانی یہودی مقامی یہودیوں کی شکایت کر کے کہنے لگے ۶ ذمہ دار ٹھہرانا چاہتے ہو۔کہ روزمرہ کے کھانے کی تقسیم کے وقت ہماری بیواؤں کی زیادہ ۲۹ پطرس اور دوسرے رسولوں نے جواب دیا کہ ہم پر انسان پرواہ نہیں کی جاتی۔یہ سن کر بارہ رسولوں نے سارے شاگردوں کے حکم کی بجائے خدا کا حکم ماننا زیادہ فرض ہے۔ہمارے باپ کو جمع کیا اور کہا: ہمارے لیے مناسب نہیں کہ ہم خدا کے کلام کی دادا کے خدا نے اُس یسوع کو مردوں میں سے زندہ کر دیا جسے تم نے منادی کرنا چھوڑ دیں اور کھانا تقسیم کرنے کا انتظام کرنے لگیں۔اس لیے اے بھائیو! اپنے میں سے سات نیک نام اشخاص کو صلیب پر لٹکا کر مار ڈالا تھا۔خدا نے اس کو فرمانروا اور نجی ٹھہرا کر اپنے داہنے ہاتھ کی کچن لو جو پاک روح اور دانائی سے معمور ہوں تا کہ ہم انہیں اس طرف سر بلندی بخشی تا کہ وہ اسرائیل کو تو بہ کی توفیق اور گناہوں کی کام کی ذمہ داری سونپ دیں۔لیکن ہم تو دعا کرنے اور کلام معافی عطا فرمائے۔۳۲ ہم ان باتوں کے گواہ ہیں اور پاک رُوح سُنانے میں مشغول رہیں گے۔بھی شاہد ہے، جسے خدا نے اپنے فرمانبرداروں کو عطا کیا ہے۔یہ بات ساری جماعت کو پسند آئی اور اُنہوں نے ایک تو جب اُنہوں نے یہ سنا تو جل بھن گئے اور چاہا کہ سینٹٹس کو جو ایمان اور پاک رُوح سے بھرا ہوا تھا " چنا اور انہیں ٹھکانے لگادیں۔۳۴ لیکن ایک فریسی نے جس کا نام عملی ایک دوسرے جن اشخاص کو چنا وہ تھے ، فلپس، پرخرس، نیکانور، تھا اور جو شریعت کا معلم تھا اور سب لوگوں میں معرب سمجھا جاتا تھا تیمون ، پر مناس اور نیکلا ؤس جوا نطاکیہ کا ایک نو مُرید یہودی عدالت میں کھڑے ہو کر حکم دیا کہ اِن آدمیوں کو تھوڑی دیر کے تھا اور انہیں رسولوں کے حضور میں پیش کیا جنہوں نے اُن کے لیے باہر بھیج دو۔۳۵ پھر وہ یوں گویا ہوا: اے اسرائیلیو! جو کچھ تم لیے دعا کی اور اُن پر ہاتھ رکھے۔ان آدمیوں کے ساتھ کرنا چاہتے ہو اسے اچھی طرح سوچ لو۔اس طرح خدا کا کلام پھیلتا چلا گیا اور یروشلیم میں شاگردوں ۳۶ کیونکہ کچھ عرصہ پہلے تھیو داس اُٹھا تھا اور اُس نے دعوی کیا تھا کی تعداد بہت ہی بڑھ گئی اور بہت سے کا ہن بھی ایمان لائے اور کہ میں بھی کچھ ہوں اور تقریباً چار سو آدمی اُس سے مل گئے تھے۔مسیحی ہو گئے۔مگر وہ مارا گیا اور اُس کے سیارے ماننے والے تتر بتر ہو کر تباہ ہو ستففس کی گرفتاری گئے۔۳۷ اُس کے بعد یہوداہ گلیلی اسم نویسی کے ایام میں نمودار ستفنس خدا کے فضل اور اُس کی قوت سے بھراہو اتھا۔وہ ہوا اور اُس نے کئی لوگوں کو اپنی طرف کر لیا۔وہ بھی مارا گیا اور اُس لوگوں میں حیرت انگیز کام اور بڑے معجزے دکھاتا تھا۔۹ آزادی کے جتنے بھی پیروکار تھے سب کے سب پراگندہ ہو گئے۔۳۸ اب پائے ہوئے یہودیوں کا ایک عباد تخانہ تھا جس میں گرینے اور میں تو تم سے یہی کہوں گا کہ اِن آدمیوں سے دُور ہی رہو اور انہیں اسکندریہ کے بعض یہودی عبادت کیا کرتے تھے۔یہ لوگ اور کلکیہ جانے دو کیونکہ اگر یہ تدبیر یا یہ کام انسانوں کی طرف سے ہے تو اور آسیہ کے کچھ یہودی مل کر ستفنس سے بحث کرنے لگے۔الیکن خود بخود مٹ جائے گا۔۳۹ لیکن اگر یہ خدا کی طرف سے ہے تو تم وہ جس حکمت اور رُوح سے کلام کرتا تھا وہ اُس کا مقابلہ نہ کر سکے۔ان آدمیوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے بلکہ خدا کے خلاف لڑنے تب اُنہوں نے کچھ لوگوں کو سکھایا کہ وہ یہ کہیں کہ ہم نے