قندیل ہدایت — Page 1345
1345 of 1460 1080 اچھا چرواہا يوحنا ١:١٠ ۱۰۸۰ ہے اور پھر واپس لے لینے کا حق بھی ہے۔یہ حکم مجھے میرے باپ ۱۹ میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جو آدمی بھیٹر خانہ میں کی طرف سے ملا ہے۔دروازے سے نہیں بلکہ کسی اور طریقہ سے اندر یہ باتیں سُن کر یہودیوں میں پھر اختلاف پیدا ہوا۔داخل ہو جاتا ہے وہ چور اور ڈاکو ہے۔لیکن جو دروازہ سے داخل ۲۰ اُن میں سے کئی ایک نے کہا کہ اُس میں بد رُوح ہے اور وہ ہوتا ہے وہ بھیڑوں کا چرواہا ہے۔دربان اُس کے لیے دروازہ پاگل ہو گیا ہے۔اُس کی مت سنو۔کھول دیتا ہے اور بھیڑیں اُس کی آواز سنتی ہیں۔وہ اپنی بھیٹروں ۲۱ لیکن اوروں نے کہا: یہ باتیں بدروح کے منہ سے نہیں کو نام بنام پکارتا ہے اور انہیں باہر لے جاتا ہے۔جب وہ اپنی نکل سکتیں۔کیا کوئی بدروح اندھوں کی آنکھیں کھول سکتی ہے؟ ساری بھیٹروں کو باہر نکال چکتا ہے تو اُن کے آگے آگے چلتا ہے یہودیوں کا ایمان نہ لانا اور اُس کی بھیڑ میں اس کے پیچھے پیچھے چلے لگتی ہیں ، اس لیے کہ وہ ایرو شلیم میں ہیکل کے مخصوص کیے جانے کی عید آئی۔اُس کی آواز پہچانتی ہیں۔وہ کسی اجنبی کے پیچھے کبھی نہ جائیں گی سردی کا موسم تھا ۳ اور یسوع ہیکل میں سلیمانی برآمدہ میں ٹہل رہا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اُس سے دُور بھاگیں گی کیونکہ وہ کسی غیر کی آواز تھا۔۲۴ یہودی اُس کے ارد گرد جمع ہو گئے اور کہنے لگے: تو کب کو نہیں پہچانتیں۔یسوع نے انہیں یہ تمثیل سُنائی لیکن وہ نہ سمجھے تک ہمیں شک میں مبتلا رکھے گا ؟ اگر تو مسیح ہے تو ہمیں صاف ۲۲ صاف بتا دے۔۲۹ ۲۳ کہ اس کا مطلب کیا ہے۔چنانچہ یسوع نے اُن سے پھر کہا: میں تم سے سچ سچ کہتا ۲۵ یسوع نے جواب دیا: میں تمہیں بتا پچکا ہوں لیکن تم تو ہوں کہ بھیڑوں کا دروازہ میں ہوں۔وہ سب جو مجھ سے پہلے میرا یقین ہی نہیں کرتے۔جو معجزے میں اپنے باپ کے نام سے کرتا آئے چور اور ڈاکو تھے اس لیے بھیڑوں نے اُن کی نہ سنی۔ہوں وہی میرے گواہ ہیں۔۲۶ لیکن تم یقین نہیں کرتے کیونکہ تم دروازہ میں ہوں۔اگر کوئی میرے ذریعہ داخل ہو تو نجات پائے میری بھیڑیں نہیں ہو۔۲۷ میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں۔گا۔وہ اندر باہر آتا جاتا رہے گا اور چارہ پائے گا۔چور صرف میں اُنہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔۲۸ میں ا پچرانے ، ہلاک اور برباد کرنے آتا ہے۔میں آیا ہوں کہ لوگ زندگی انہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہوں۔وہ کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی پائیں اور کثرت سے پائیں۔انہیں میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا۔اچھا چرواہا میں ہوں۔اچھا چرواہا اپنی بھیڑوں کے لیے میرا باپ جس نے انہیں میرے سپرد کیا ہے سب سے جان دیتا ہے۔کوئی مزدور نہ تو بھیڑوں کو اپنا سمجھتا ہے نہ اُن کا بڑا ہے۔کوئی انہیں میرے باپ کے ہاتھ سے نہیں چھین سکتا۔چرواہا ہوتا ہے۔اس لیے جب وہ بھیڑئے کو آتا دیکھتا ہے تو ۳۰ میں اور باپ ایک ہیں۔بھیڑوں کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔تب بھیڑ یا گلہ پر حملہ کر کے یہودیوں نے پھر اُسے سنگسار کرنے کے لیے پتھر اُسے تر بتر کر دیتا ہے۔چونکہ وہ مزدور ہوتا ہے اس لیے بھاگ اُٹھائے۔۳۲ لیکن یسوع نے اُن سے کہا کہ میں نے تمہیں اپنے جاتا ہے اور بھیٹروں کی پرواہ نہیں کرتا۔باپ کی طرف سے بڑے بڑے معجزے دکھائے ہیں۔اُن میں اچھا چرواہا میں ہوں۔جیسے باپ مجھے جانتا ہے ، میں سے کس معجزہ کی وجہ سے مجھے سنگسار کرنا چاہتے ہو؟ باپ کو جانتا ہوں۔میں اپنی بھیڑوں کو جانتا ہوں۔۱۵ میری یہودیوں نے جواب دیا : ہم تجھے کسی معجزہ کے لیے نہیں بھیڑیں مجھے جانتی ہیں اور میں بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتا بلکہ اس کفر کے لیے سنگسار کرنا چاہتے ہیں کہ محض آدمی ہوتے ہوں۔میری اور بھیڑیں بھی ہیں جو اس گلہ میں شامل نہیں۔ہوئے تو اپنے آپ کو خدا بناتا ہے۔مجھے لازم ہے کہ میں انہیں بھی لے آؤں۔وہ میری آواز سنیں گی ۳۴ یسوع نے اُن سے کہا: کیا تمہاری شریعت میں یہ نہیں اور پھر ایک ہی گلہ اور ایک ہی چرواہا ہوگا۔میرا باپ مجھے اس لکھا ہے کہ میں نے کہاتم خدا ہو؟ ۳۵ گر شریعت اُنہیں خدا کہتی لیے پیار کرتا ہے کہ میں اپنی جان قربان کرتا ہوں تا کہ اُسے پھر ہے جنہیں خدا کا کلام دیا گیا اور پاک کلام غلط نہیں ہوسکتا۔۳۶ تو واپس لے لوں۔۱۸ اسے کوئی مجھ سے چھینتا نہیں بلکہ میں اپنی تم اُس کے بارے میں کیا کہتے ہو جسے باپ نے مخصوص کر کے دنیا مرضی سے اُسے قربان کرتا ہوں۔مجھے اُسے قربان کرنے کا اختیار میں بھیجا ہے؟ چنانچہ تم مجھ پر کفر کا الزام کیوں لگاتے ہو؟ کیا اس ۱۶ ۱۳ ۱۷ ۳۳