قندیل ہدایت — Page 1334
1334 of 1460 1066 لوقا ۳۷:۲۴ ۳۷ لیکن وہ اس قدر ہراساں اور خوف زدہ ہو گئے کہ سمجھنے پورا ہونا ضروری ہے ۴۷ ۱۰۶۶ لگے کہ وہ کسی رُوح کو دیکھ رہے ہیں۔۳۸ یسوع نے اُن سے ۴۵ تب اُس نے اُن کا ذہن کھولا تا کہ وہ پاک کلام کو سمجھ سکیں۔کہا: تم کیوں گھبرائے ہوئے ہو اور تمہارے دلوں میں شکوک کیوں اور اُن سے کہا: یوں لکھا ہوا ہے کہ مسیح دُکھ اُٹھائے گا اور پیدا ہو رہے ہیں؟ ۳۹ میرے ہاتھ اور پاؤں دیکھو، میں ہی تیسرے دن مُردوں میں سے جی اٹھے گا۔اور اس کے نام سے ہوں۔مجھے چھو کر دیکھو کیونکہ رُوح کی ہڈیاں ہی ہوتی ہیں اور نہ یروشلیم سے شروع کر کے ساری قوموں میں تو بہ اور گناہوں کی معافی کی منادی کی جائے گی۔تم ان باتوں کے گواہ ہو۔میرے باپ وم گوشت جیسا تم مجھ میں دیکھ رہے ہو۔یہ کہنے کے بعد اس نے انہیں اپنے ہاتھ اور پاؤں دکھائے نے جس کا وعدہ کیا ہے میں اسے تم پر نازل کروں گا لیکن جب تک ۴۱ لیکن خوشی اور حیرت کے مارے اُنہیں یقین نہیں آرہا تھا۔لہذا تمہیں آسمان سے قوت کالباس عطا نہ ہو اسی شہر میں ٹھہرے رہنا۔یسوع نے اُن سے کہا: یہاں تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ خداوند یسوع کا اوپر اُٹھایا جانا | ۴۲ انہوں نے اُسے بھنی ہوئی مچھلی کا قبلہ پیش کیا۔۴۳ اس نے ۵۰ پھر یسوع انہیں بیت علیاہ تک باہر لے گیا اور اپنے ہاتھ اُٹھا کر انہیں برکت بخشی۔ا جب وہ اُنہیں برکت دے رہا تھا تو لیا اور اُن کے رُوبر دکھایا۔۴۴ پھر اُس نے اُن سے کہا: جب میں تمہارے ساتھ تھا تو اُن سے جدا ہو گیا اور آسمان پر اُٹھا لیا گیا ۵۲ شاگردوں نے اُسے میں نے تمہیں یہ باتیں بتائی تھیں کہ موسی کی توریت ، نبیوں کی سجدہ کیا اور پھر بڑی خوشی کے ساتھ یروشلیم لوٹ گئے۔۵۳ اور وہ کتابوں اور زبور میں میرے بارے میں جو کچھ لکھا ہوا ہے اُس کا ہیکل میں حاضر ہو ہو کر خدا کی حمد کیا کرتے تھے۔یوحنا کی انجیل پیش لفظ ان یہ انجیل خداوند یسوع کی موت اور آپ کے زندہ ہو جانے کے کئی سال بعد غالبا ۹۰ ۹۶ عیسوی کے درمیان لکھی گئی۔اس انجیل کا مصنف کو حتا رسول ہے۔اس انجیل کی غرض و غایت یہ ہے کہ اس کے پڑھنے والے خداوند یسوع مسیح پر ایمان لائیں اور آپ کے نام سے ہمیشہ کی زندگی پائیں (۳۱:۲۰)۔اس انجیل سے ظاہر ہے کہ خداوند یسوع محض ایک عظیم شخص ہی نہیں بلکہ آپ ذات الہی کے حامل تھے۔آپ کے معجزے اور بیشتر تعلیمات جود وسری کتابوں میں درج نہیں ، اس انجیل میں درج ہیں۔خداوند یسوع کی موت اور آپ کے زندہ ہو جانے کے بعد اپنے شاگردوں پر ظاہر ہونے کے واقعات اس انجیل میں خاص طور پر بیان کیے گئے ہیں۔یہ انجیل بہ نسبت دیگر انجیلوں کے خداوند یسوع کی الوہیت اور آپ کی زندگی کی تفسیر و تعبیر پر زیادہ زور دیتی ہے۔آپ کی شخصیت کے اظہار کے لیے کئی استعارے استعمال کیے گئے ہیں۔مثلاً نور حق محبت ، اچھا چرواہا، دروازہ ، قیامت اور زندگی، حقیقی روٹی وغیرہ وغیرہ۔باب ۱۴ تا ۱۷ میں جو مواد پیش کیا گیا ہے اُس سے خداوند یسوع کی اُس گہری محبت کا جو آپ اپنے ایمان لانے والوں سے رکھتے ہیں اور اُس اطمینان کا جو آپ پر ایمان لانے سے حاصل ہوتا ہے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔1 کلام کا مجسم ہونا اُسی کے وسیلہ سے پیدا کی گئیں اور کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اس کے ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام ہی خدا بغیر وجود میں آئی ہو۔اُس میں زندگی تھی اور وہ زندگی آدمیوں کا تھا۔۲ کلام شروع میں خدا کے ساتھ تھا۔سب چیزیں ٹور تھی۔۵ نور تاریکی میں چمکتا ہے اور تاریکی اُسے کبھی مغلوب