قندیل ہدایت — Page 1308
۱۰۷۹ 1308 of 1460 يوتا ۴۱:۹ 1079 ۱۲ انہوں نے اُس سے پوچھا: وہ آدمی کہاں ہے؟ اُس نے کہا: میں نہیں جانتا۔فریسیوں کا تفتیش کرنا تیری آنکھیں کیسے کھولیں؟ ۲۷ اُس نے جواب دیا: میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں لیکن م نے سنا نہیں۔اب وہی بات پھر سے سکتا چاہتے ہو؟ کیا تمہیں لوگ اُس آدمی کو جو پہلے اندھا تھا فریسیوں کے پاس لائے بھی اُس کے شاگرد بنے کا شوق چرایا ہے؟ ۱۴ جس دن یسوع نے مٹی سان کر اندھے کی آنکھیں کھولی تھیں وہ ۲۸ تب وہ اُسے بُرا بھلا کہنے لگے کہ تو اُس کا شاگرد ہو سبت کا دن تھا۔۱۵ اس لیے فریسیوں نے بھی اُس سے پوچھا کہ گا۔ہم تو موسی کے شاگرد ہیں۔۲۹ ہم جانتے ہیں کہ خدا نے موسیٰ تجھے بینائی کیسے ملی؟ اس نے جواب دیا کہ یسوع نے مئی سان کر سے کلام کیا لیکن جہاں تک اس آدمی کا تعلق ہے، ہم تو یہ بھی نہیں میری آنکھوں پر لگائی، میں نے انہیں دھویا اور اب میں بینا جانتے کہ یہ کہاں کا ہے۔ہوں۔۱۶ ۳۱ ۳۰ اس آدمی نے جواب دیا: یہ بڑی عجیب بات ہے ائم فریسیوں میں سے بعض کہنے لگے: یہ آدمی خدا کی طرف نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا ہے حالانکہ اُس نے میری آنکھیں ٹھیک سے نہیں کیونکہ وہ سبت کے دن کا احترام نہیں کرتا۔کر دی ہیں۔سب جانتے ہیں کہ خدا گنہگاروں کی نہیں سنتا بعض کہنے لگے: کوئی گنہ گار آدمی ایسے معجزے کس طرح دیکھا لیکن اگر کوئی خدا پرست ہو اور اُس کی مرضی پر چلے تو اُس کی ضرور سکتا ہے؟ پس اُن میں اختلاف پیدا ہو گیا۔سُنتا ہے۔۳۲ ایسا کبھی سکنے میں نہیں آیا کہ کسی نے ایک جنم کے نے آخر کار وہ اندھے آدمی کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھنے اندھے کو بینائی دی ہو۔۳۳ اگر یہ آدمی خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو لگے کہ جس آدمی نے تیری آنکھیں کھولی ہیں اُس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔تیرا کیا خیال ہے؟ اُس نے جواب دیا : وہ ضرور کوئی نبی ہے۔یہ سُن کر انہوں نے جواب دیا: تو جو سراسر گناہ میں پیدا ہوا، ہمیں کیا سکھاتا ہے؟ یہ کہ کبر انہوں نے اُسے باہر نکال دیا۔روحانی اندھا پن ۱۸ یہودیوں کو ابھی بھی یقین نہ آیا کہ وہ پہلے اندھا تھا اور بینا ہو گیا ہے۔پس اُنہوں نے اُس کے والدین کو بلا بھیجا۔۳۵ یسوع نے یہ سُنا کہ فریسیوں نے اُسے عبادت خانہ سے 19 تب اُنہوں نے اُن سے پوچھا: کیا یہ تمہارا بیٹا ہے جس کے بارے نکال دیا ہے۔چنانچہ اُسے تلاش کر کے اُس سے پوچھا: کیا تو میں تم کہتے ہو کہ وہ اندھا پیدا ہو ا تھا؟ اب وہ کیسے بینا ہو گیا؟ ابن آدم کو جانتا ہے؟ ۲۰ اُس نے پوچھا: اے خداوند! وہ کون ہے؟ مجھے بتا کہ یسوع نے کہا: تو نے اُسے دیکھا ہے اور حقیقت تو یہ والدین نے جواب دیا: ہم جانتے ہیں کہ وہ ہمارا ہی بیٹا ہے اور یہ بھی کہ وہ اندھا ہی پیدا ہو ا تھا۔۲۱ لیکن اب وہ کیسے بینا میں اُس پر ایمان لاؤں۔ہو گیا اور کس نے اُس کی آنکھیں کھولیں یہ ہم نہیں جانتے۔تم اُسی سے پوچھ لو، وہ تو بالغ ہے۔۲۲ اُس کے والدین نے یہ اس لیے کہا ہے کہ جو اس وقت تجھ سے بات کر رہا ہے وہی ہے۔تھا کہ یہودیوں سے ڈرتے تھے کیونکہ یہودیوں نے فیصلہ کر رکھا تھا ۳۸ تب اُس آدمی نے کہا: اے خداوند! میں ایمان لاتا کہ جو کوئی یسوع کو مسیح کی حیثیت سے قبول کرے گا عبادت خانہ ہوں اور اُس نے یسوع کو سجدہ کیا۔سے خارج کر دیا جائے گا۔۲۳ اسی لیے اُس کے والدین نے کہا ۳۹ یسوع نے کہا: میں دنیا کی عدالت کرنے آیا ہوں تا کہ جو اندھے ہیں دیکھنے لگیں اور جو آنکھوں والے ہیں، اندھے کہ وہ بالغ ہے، اُسی سے پوچھ لو۔۲۴ انہوں نے اُس آدمی کو جو پہلے اندھا تھا پھر سے بلایا اور ہو جائیں کہا : تجھے خدا کی قسم ، بیچ بول! ہم جانتے ہیں کہ وہ آدمی گنہگار ہے۔۲۵ اُس نے جواب دیا : وہ گنہ گار ہے یا نہیں، میں نہیں جانتا۔کیا کہا ؟ کیا ہم بھی اندھے ہیں؟ بعض فریسی جو اُس کے ساتھ تھے یہ سُن کر پوچھنے لگے: ایک بات ضرور جانتا ہوں کہ میں پہلے اندھا تھا لیکن اب دیکھتا ا یسوع نے کہا: اگر تم اندھے ہوتے تو اتنے گنہ گار نہ سمجھے ہوں۔جاتے۔لیکن اب جب کہ تم کہتے ہو کہ ہماری آنکھیں ہیں تو تمہارا ۲۶ انہوں نے اُس سے پوچھا: اُس نے تیرے ساتھ کیا کیا ؟ گناہ قائم رہتا ہے۔