قندیل ہدایت — Page 1304
1304 of 1460 1219 کرنے والا دروازہ پر کھڑا ہے۔یعقوب ۲۰:۵ ۱۲۱۹ نام سے بیمار کو تیل مل کر اُس کے لیے دعا کریں۔۱۵ ایسی دعا جو بھائیو! جن نبیوں نے خداوند کے نام سے کلام کیا انہیں ایمان سے مانگی جائے گی اُس کے باعث بیمار بچ جائے گا۔خداوند دُکھ اُٹھانے اور صبر کرنے کا نمونہ سمجھو۔اہم انہیں اس لیے اُسے تندرستی بخشے گا اور اگر اُس نے گناہ کیسے ہوں تو وہ بھی معاف مبارک کہتے ہیں کہ اُنہوں نے صبر سے زندگی گزاری تم نے کیے جائیں گے۔اس لیے تم ایک دوسرے کے سامنے اپنے ایب کے صبر کا حال سُنا ہے اور خداوند کی طرف سے اُس کا کیا گناہوں کا اقرار کرو اور ایک دوسرے کے لیے دعا کرو تا کہ شفا پاؤ انجام ہوا یہ بھی جانتے ہو۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خداوند کس قدر کیونکہ راستباز کی دعا بڑی پُر اثر ہوتی ہے، ۱۲ رحمدل اور مہربان ہے۔ایلیاہ ہماری طرح انسان تھا۔اُس نے بڑے جوش سے بھائیو! سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ قسم نہ کھاؤ، نہ آسمان دعا کی کہ بارش نہ ہو اور ساڑھے تین برس تک زمین پر بارش نہ کی ، نہ زمین کی ، نہ کسی اور چیز کی۔بلکہ ہاں کی جگہ ہاں کہو اور نہیں ہوئی۔۱۸ اُس نے پھر دعا کی تو آسمان سے بارش ہوئی اور زمین نے فصلیں پیدا کیں۔کی جگہ نہیں تا کہ سزا سے بچ سکو۔دعا اور سلام 19 ۱۹ اے میرے بھائیو! اگر تم میں سے کوئی سچی راہ سے پھر اگر تم میں سے کوئی مصیبت زدہ ہے تو اُسے چاہیے کہ دعا جائے اور کوئی اُسے واپس لے آئے تو یاد رکھتے کہ گنہگار کو کرے اور خوش ہے تو خدا کی تعریف میں گیت گائے۔اگر کوئی گمراہی سے پھیر لانے والا ایک جان کو موت سے بچائے گا اور بیمار ہے تو وہ کلیسیا کے بزرگوں کو بلائے اور وہ بزرگ خداوند کے بہت سے گناہوں پر پردہ ڈالے گا۔پطرس کا پہلا عام محط پیش لفظ پطرس رسول خداوند یسوع مسیح کے بارہ شاگردوں میں بڑی عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔پطرس سے دو خطوط منسوب کیے جاتے ہیں۔پہلا خط روم سے غالبا ۶۳ - ۶۴ عیسوی کے درمیان ایشیائے کو چک کے پانچ رومی صوبوں کے مسیحیوں کو لکھا گیا تھا۔علماء کا خیال ہے کہ یہ خط پطرس نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں لکھا تھا جب کہ مسیحیوں پر رومی حکومت کی طرف سے مظالم کا آغاز ہو چکا تھا۔پطرس اس خط میں مسیحیوں کو آگاہ کرتا ہے کہ انہیں مسیحی ہونے کی وجہ سے تکالیف کا سامنا کرنا ہوگا۔وہ خداوند یسوع مسیح کی مثال دے کر مسیحیوں کو دُکھ اُٹھانے کے لیے تیار کرتا ہے۔بعض مسیحی جو اذیت کے خوف سے اپنے مسیحی ایمان سے برگشتہ ہورہے تھے اُنہوں نے اس خط سے ہمت پائی اور جب اذیتوں کا دور شروع ہوا تو اُن میں سے بہت سے لوگ اپنے مسیحی ایمان پر ثابت قدم رہے۔روایت ہے کہ پطرس بھی صلیب پر چڑھا کر مار ڈالا گیا تھا۔پطرس کا دوسرا خط بھی رُوم سے غالباً ۶۴ عیسوی کے دوران لکھا گیا۔اس خط کے لکھے جانے کے کچھ عرصہ بعد پطرس رسول کو اپنی موت کا سانحہ پیش آیا۔اس خط میں کلیسیاؤں کو بعض جھوٹے نبیوں اور اُستادوں کی تعلیم سے خبر دار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔پطرس رسول خداوند مسیح کی دوبارہ آمد کی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے مسیحیوں کو یاد دلاتا ہے کہ اگر وہ نیک زندگی بسر کریں گے، کلام کی سچائی پر ایمان لائیں گے، سختیاں جھیلیں گے، خدا پر بھروسہ رکھیں گے اور خداوند سیح کے ظہور کے منتظر ر ہیں گے تو نیک اجر پائیں گے۔