قندیل ہدایت — Page 1287
1287 of 1460 295 ۲ سموئیل ۴:۱۲ ۲۱ ۲۹۵ عورت حاملہ ہوگئی اور اُس نے داود کو جب بھیجی کہ میں حاملہ ہوں۔بتا چکے ۲۰ تو ممکن ہے کہ بادشاہ کا غصہ بھڑک اُٹھے اور وہ پوچھ لے لہذا داؤد نے یو آب کو یہ پیغام بھیجا کہ اور یہ کتی کو میرے کہ تم لڑنے کے لیے شہر کے اس قدر نزدیک کیوں گئے تھے؟ کیا پاس بھیج دے۔یو آب نے اُسے داؤد کے پاس بھیج دیا۔جب تمہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ دیوار پر سے تیروں کی بارش کر دیں گے؟ اور یاہ اُس کے پاس آیا تو داؤد نے اُس سے یو آب کا حال پوچھا یر بست کے بیٹے ا یملک کو کس نے مارا؟ کیا وہ ایک عورت نہ اور یہ بھی کہ سپاہی کیسے ہیں اور جنگ کیسی ہو رہی ہے؟ پھر داؤد تھی جس نے تعیض میں چکی کا پاٹ دیوار پر سے اُس کے اوپر نے اور یاہ سے کہا کہ اپنے گھر جا اور اپنے پاؤں دھو کر آرام کر۔پھینکا تھا جس سے وہ مر گیا؟ پھر تم دیوار کے نزدیک کیوں گئے؟ اور یا محل سے چلا گیا اور بادشاہ کی طرف سے اُس کے پیچھے پیچھے تب جواب میں اُسے کہنا کہ تیرا خادم اور زیا دتی بھی مرگیا ہے۔ایک خوان بھیجا گیا۔لیکن اور یا محل کے مدخل پر ہی اپنے مالک چنانچہ وہ قاصد روانہ ہوا اور جب وہاں پہنچا تو اُس نے کے سب خادموں کے ساتھ سو گیا اور اپنے گھر نہ گیا۔داؤد کو سب کچھ بتایا جسے بتانے کے لیے یو آب نے اُسے بھیجا جب داؤد کو معلوم ہوا کہ اور یاہ اپنے گھر نہیں گیا تو اُس تھا ۲۳ قاصد نے داؤد سے کہا کہ وہ لوگ ہم پر غالب آئے اور پھر نے اُس سے پوچھا کہ کیا تو ابھی ابھی سفر سے نہیں آیا؟ تو اپنے باہر نکل کر میدان میں ہمارے روبرو ہو گئے۔لیکن ہم نے انہیں گھر کیوں نہیں گیا ؟ واپس شہر کے مدخل تک دھکیل دیا۔۲۴ تب تیراندازوں نے دیوار اور یاہ نے داؤد سے کہا کہ عہد کا صندوق اور اسرائیل اور پر سے تیرے خادموں پر تیر برسانے شروع کر دیئے جن سے ۲۲ یہوداہ خیموں میں رہتے ہیں اور میرا مالک یو آب اور میرے مالک بادشاہ کے کچھ آدمی مر گئے اور تیرا خادم اور بیا ہ دیتی بھی مرگیا۔کے آدمی کھلے کھیتوں میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔بھلا میں کس ۲۵ تب داؤد نے قاصد سے کہا کہ یو آب سے کہنا کہ اس واقعہ طرح کھانے پینے اور اپنی بیوی کے ساتھ سونے کے لیے گھر جا سکتا سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔تلوار جیسے ایک کو اپنا لقمہ بناتی ہوں؟ تیری حیات کی قسم میں ایسا کام نہیں کروں گا ! ہے ویسے ہی دوسرے کو بھی کھا جاتی ہے۔ھدت سے حملہ کر اور ۲۶ تب داؤد نے اُس سے کہا کہ ایک دن اور یہاں ٹھہر اور اُسے تباہ کر دے۔ان باتوں سے یو آب کی حوصلہ افزائی کرنا۔کل میں تجھے واپس بھیج دوں گا۔اس لیے اور یاہ اُس دِن اور جب اوریاہ کی بیوی نے سُنا کہ اُس کا خاوند مر گیا ہے تو اگلے دن بھی یروشلیم میں رہا۔۱۳ اور داؤد کے بلانے پر اُس نے اُس نے اُس کے لیے ماتم کیا۔۲۷ اور جب ماتم کرنے کی مدت اُس کے حضور میں کھایا پیا اور داؤد نے اُسے خوب پلا کر متوالا کر ختم ہو گئی تو داؤد نے اُسے اپنے گھر بلوایا اور وہ اُس کی بیوی بن گئی دیا۔لیکن شام کو اور یا ہ اپنے مالک کے خادموں کے درمیان اپنے اور اُس سے اُس کے ایک لڑکا پیدا ہوا۔لیکن داؤد کا یہ کام خداوند کی بستر پر سونے کے لیے باہر گیا پر اپنے گھر نہ گیا۔نظر میں بُر ا تھا۔۱۴ صبح کو داؤد نے یو آب کے نام ایک خط لکھا اور اُسے اور تیاہ کے ہاتھ بھیجا۔۱۵ اس خط میں اُس نے لکھا کہ اور یاہ کو محاذ جنگ کی اگلی صف میں رکھنا جہاں سخت لڑائی جاری ہو اور پھر اُس کے پیچھے ۱۲ ناتن کا داؤدکو ڈانٹنا خداوند نے نائن کو داؤد کے پاس بھیجا اور جب وہ اُس کے پاس آیا تو کہنے لگا کہ کسی شہر میں دو آدمی سے ہٹ جانا تا کہ وہ بُری طرح زخمی ہو اور اپنی جان سے ہاتھ دھو تھے۔ایک امیر تھا اور دوسرا غریب۔اُس امیر آدمی کے پاس بڑی تعداد میں بھیڑ بکریاں اور مویشی تھے۔۳ لیکن غریب آدمی بیٹھے۔۱۶ لہذا جب یو آب نے شہر کا محاصرہ کر لیا تو اُس نے اور یاہ کے پاس ایک چھوٹی بھیڑ کے سوا کچھ نہ تھا جسے اس نے خرید کر پالا کو ایسی جگہ رکھا جہاں اُسے معلوم تھا کہ بڑے بہادر آدمی شہر کا دفاع تھا اور وہ اُس کے بال بچوں کے ساتھ ہی پلی بڑھی تھی۔وہ اُس کی کر رہے ہیں۔جب اُس شہر کے آدمی باہر نکل کر یو آپ کے روٹی کے نوالے کھاتی اور اُس کے پیالے سے پیتی تھی اور اُس کی خلاف لڑے تو داؤد کی فوج کے کچھ آدمی مارے گئے اور اوریا و حتی گود میں ہی سوتی تھی اور اُس کے لیے بیٹی کی طرح تھی۔بھی کام آیا۔۱۸ ۱۷ ایک دن اُس امیر کے ہاں کوئی مسافر آیا۔لیکن وہ امیر تب یو آپ نے قاصد کے ذریعہ لڑائی کا سارا حال داود کو آدمی جب اُس مہمان کے لیے کھانا تیار کرنے لگا تو اپنی بھیٹروں یا بھیجا۔۱۹ اور قاصد کو تاکید کی کہ جب تو لڑائی کی یہ تفصیل بادشاہ کو مویشیوں میں سے کسی جانور کو ذبح کرنے کی بجائے اُس نے اُس