قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1060 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1060

1060 of 1460 ام M در حقیقت یہ علما کا کام تھا کہ جب اس انقلاب کی ابتدا ہو رہی تھی اس وقت وہ بیدار ہوتے، آنے والی تہذیب کے اصول و مبادی کو سمجھتے ، مغربی ممالک کا سفر کر کے ان علوم کا مطالعہ کرتے جن کی بنیاد پر یہ تہذیب اٹھی ہے۔اجتہاد کی قوت جن پر یہ سے کام لے کر ان کار آمد علی اکتشافات اور عملی طریقوں کو انذ کر لیتے جن کے بل پر مغوی قوموں نے ترقی کی ہے اور ان نئے کل پرزوں کو اصول اسلام کے تحت مسلمانوں تعلیمی نظام اور ان کی تمدنی زندگی کی مشین میں اس طرح نصب کر دیتے کہ صدیون کے جمود سے جو نقصان پہنچا تھا اس کی تلافی ہو جاتی اور اسلام کی گاڑی پھر سے زمانہ کی رفتار کے ساتھ چلنے لگتی۔مگر افسوس کہ علما۔دالتا ماشاء اللہ خود اسلام کی حقیقی سطح سے خالی ہو چکے تھے۔ان میں اجتہاد کی قوت نہ تھی، ان میں نفقہ نہ تھا، ان میں حکمت نہ تھی، ان میں عمل کی طاقت نہ تھی ، ان میں یہ صلاحیت ہی نہ تھی کہ خدا کی کتاب اور نہ رسول بخدا کی علم وصلی ہدایت سے اسلام کے دائمی اور لچکدار اصول اخذ کرتے اور زباز کے متغیر مسحالات میں ان سے کام لیتے۔ان پر تو سلامت کی اندھی اور جامد تقلید کا مرض پوری طرح مسلط ہو چکا تھا جس کی وجہ سے وہ ہر چیز کوان کتابوں میں تلاش کرتے تھے جو خدا کی کتابیں نہ تھیں کہ زمانے کی قیود سے بالاتر ہو تیں۔وہ ہر معاملہ میں ان انسانوں کی طرف رجوع کرتے تھے جو خدا کے نبی نہ تھے کہ ان کی بصیرت اوقات اور حالات کی بندشوں سے بالکل آزاد ہوتی۔پھر یہ کیونکہ مکن تھا کہ وہ ایسے وقت میں مسلمانوں کی کامیاب رہنمائی کر سکتے جب کہ زمانہ بالکل بدل چکا تھا اور علم و عمل کی بنیا میں ایسا عظیم تغیر واقع ہو چکا تھا جس کوخدا کی نظر تو دیکھ سکتی تھی، مگرکسی غیر نبی انسان کی نظر میں یہ طاقت نہ تھی کہ قرنوں اور صدیوں کے پردے اٹھا کر ان