قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 72
نظام دین کی تھی۔بدقسمتی سے ان دونوں بھائیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شدید مخالفت کی حتی کہ آپ کے مکان اور مسجد مبارک کو جانے والے راستہ کو ایک دیوار بنا کر بند کر دیا۔جو بعد میں عدالتی فیصلہ سے منہدم ہوئی۔اپنے زمانہ کی عالی شان عمارت میں تقسیم ملک کے بعد صدر انجمن احمدیہ نے نصرت گرلز اسکول' جاری کیا جو 7 / جنوری 2012 ء تک قائم رہا۔مرور زمانہ کی وجہ سے مرزا نظام دین والی عمارت انتہائی خستہ و بوسیدہ ہو چکی تھی۔چنانچہ اسکے انہدام کی کارروائی اس کے انخلاء کے فوراً بعد شروع ہوئی اور وہاں ایک خوبصورت کستان بنانے کا منصوبہ تیار ہوا۔دفتر محاسب کے سامنے بجانب جنوب کا مکن پہلے ہی گلشن احمد کے نام سے موسوم تھا۔چنانچہ اس توسیع شدہ حصے کو ہموار کرنے کے بعد بُستان بنانے کے لئے محترم فاتح احمد صاحب ڈاہری انچارج انڈیا ڈلیک ( حال وکیل صاحب تعمیل و محفید ) نے مورخہ 10 اپریل 2012 کو دعاؤں کے ساتھ بنیادی اینٹ رکھی۔یہ انتہائی خوبصورت اور سرسبز گلستان ہے۔ہوشیار پور ہوشیار پور پنجاب کا ایک مشہور شہر ہے۔اس شہر کو یہ فخر واعزاز حاصل ہے کہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے ایک مکان میں چالیس روز عبادت کی۔اس کے 72