قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 31
۔۔۔حضرت منشی صاحب نے عمر بھر اعجازی کرتہ کی حفاظت کی اور سفر وحضر میں ہمیشہ اپنے ساتھ ہی رکھتے تھے بالآخر 7 اکتوبر 1927ء کو انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا اور یہ قیمتی یادگار بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت کے مطابق بہشتی مقبرہ میں سپردخاک کر دی گئی۔بيت الفكر ( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد نمبر صفحہ 269) بيت المفکر وہ کمرہ ہے جو کہ مسجد مبارک سے ملحق شمالی جانب ہے۔اور اس کمرہ کی کھڑ کی مسجد مبارک کے قدیمی حصہ میں کھلتی ہے۔اس کمرہ کی چوڑائی تقریباً دس فٹ اور لمبائی تیرہ فٹ چھ انچ ہے۔اس کمرہ میں داخل ہونے کے لئے مسجد مبارک کی کھڑکی کے علاوہ ایک دروازہ جانب مشرق اور دوسرا جانب شمال ہے۔یہ وہ مبارک کمرہ ہے جس میں حضرت مسیح موعود ابتدائی ایام میں تالیف و تصنیف کے کام میں مشغول رہا کرتے تھے۔اسی کمرہ کی نسبت حضور کو 1882ء میں الہام ہوا الَمْ نَجْعَلْ لَكَ سُهُوَ لَةً فِي كُلِ أَمْرٍ - بَيْتُ الْفِكْرِ۔۔۔(تذکرہ صفحہ 82) کیا ہم نے ہر ایک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی ؟ کہ تجھ کو بیت الفکر عطا کیا۔“ یہ کمرہ دُعاؤں اور نوافل کی ادائیگی کے لئے ہر وقت کھلا رہتا ہے۔اگر نوافل کا وقت نہ ہو تو ہاتھ اٹھا کر مسنون طریق پر دُعا ئیں کر سکتے ہیں۔31