قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات

by Other Authors

Page 26 of 112

قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 26

ہے۔چنانچہ میں نے پھر مرزا صاحب پر توجہ ڈالنی شروع کی تو میں نے دیکھا کہ پھر وہی شیر میرے سامنے ہے اور میرے قریب آ گیا۔اس پر پھر میرے بدن پر سخت لرزہ آیا۔مگر میں پھر سنجل گیا اور میں نے جی میں اپنے آپ کو بہت ملامت کی کہ یونہی میرے دل میں و ہم سے خوف پیدا ہو گیا۔چنانچہ میں نے اپنا دل مضبوط کر کے اور اپنی طاقت کو جمع کر کے پھر مرزا صاحب پر اپنی توجہ کا اثر ڈالا اور پورا زور لگایا۔اس پر ناگہاں میں نے دیکھا کہ وہی شیر میرے اوپر کو کر حملہ آور ہوا ہے۔اس وقت میں نے بے خود ہو کر چیخ ماری اور وہاں سے بھاگ اٹھا۔۔۔۔بعد میں وہ شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بہت معتقد ہوگیا تھا۔جب تک زندہ رہا آپ سے خط و کتابت رکھتا تھا۔(سیرۃ المہدی جلد اول صفحہ 55 روایت نمبر 75 مطبوعہ قادیان سن 2008ء) سیدنا حضرت المصلح الموعود رضی اللہ تعالی عنہ نے مورخہ 19 مارچ 1944ء کو بعد نماز عصر مسجد مبارک میں اسی مسجد کے متعلق فرمایا تھا: ”جو لوگ قادیان آتے ہیں ان کو روزانہ کوئی نہ کوئی نماز مسجد مبارک میں ادا کرنی چاہئے۔یہ برکت دینے والی جگہ ہے۔یہ نزولِ برکات کا مقام ہے اور ہر کام جو یہاں کیا جائے گا وہ مبارک ہوگا۔اس بات کو کہنے والا کوئی انسان نہیں بلکہ خدا کہ رہا ہے۔اگر خدا ایک دفعہ بھی کسی چیز کو مبارک قرار دیدے تب بھی اس کی برکت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔مگر یہ مسجد تو وہ ہے جسے خدا 26