قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 25
سید نا حضرت الصلح الموعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا ” کہ ایک دفعہ ایک ہندو جو گجرات کا رہنے والا تھا قادیان کسی بارات کے ساتھ آیا۔یہ شخص علم توجہ کا بڑا ماہر تھا۔چنانچہ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم لوگ قادیان آئے ہوئے ہیں چلو مرزا صاحب سے ملنے چلیں اور اس کا منشا یہ تھا کہ لوگوں کے سامنے حضرت صاحب پر اپنی توجہ کا اثر ڈال کر آپ سے بھری مجلس میں کوئی بے ہودہ حرکات کرائے۔جب وہ مسجد میں حضور سے ملا تو اس نے اپنے علم سے آپ پر اپنا اثر ڈالنا شروع کیا۔مگر تھوڑی دیر کے بعد وہ یک لخت کانپ اٹھا۔مگر سنبھل کر بیٹھ گیا اور اپنا کام پھر شروع کر دیا۔اور حضرت صاحب اپنی گفتگو میں لگے رہے۔مگر پھر اس کے بدن پر ایک سخت لرزہ آیا اور اسکی زبان سے بھی کچھ خوف کی آواز نکلی مگر وہ پھر سنبھل گیا۔مگر تھوڑی دیر کے بعد اس نے ایک چیخ ماری اور بے تحاشہ مسجد سے بھاگ نکلا اور بغیر جوتا پہنے نیچے بھاگتا ہوا اتر گیا۔اس کے ساتھی اور دوسرے لوگ اس کے پیچھے بھاگے اور اس کو پکڑ کر سنبھالا۔جب اس کے ہوش ٹھکانے ہوئے تو اس نے بیان کیا کہ میں علم توجہ کا بڑا ماہر ہوں میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ مرزا صاحب پر اپنی توجہ ڈالوں اور مجلس میں ان سے کوئی لفو حرکات کرا دوں۔لیکن جب میں نے توجہ ڈالی تو میں نے دیکھا کہ میرے سامنے مگر ایک فاصلہ پر ایک شیر بیٹھا ہے۔میں اسے دیکھ کر کانپ گیا۔لیکن میں نے جی میں ہی اپنے آپ کو ملامت کی کہ یہ میرا وہم 25