پیاری مخلوق — Page 52
۵۲ اس طرح انسان پر واضح ہوتا ہے۔کہ جس خُدا سے ان کا تعلق ہو گیا ہے۔وہ زندہ خُدا ہے۔کیونکہ اس کی حرکت کے ساتھ خدا بھی حرکت میں آتا ہے۔اس کو دُکھ میں دیکھ کر اس کو دور کرنے کا سامان کرتا ہے۔اس کے صبر کرنے پر انعام دیتا ہے۔اس کے شکر کی ادائیگی پر اور بڑھا کر دیتا ہے ، اور دیتا چلا جاتا ہے۔لیکن میرا خدا چند گنی چنی صفات کا مالک تو نہیں۔اس کی صفات لاتعداد ہیں۔بے شمار ہیں۔اور ہر صفت کے کئی رنگ کبھی کسی رنگ کی جھلک دنیا دیکھتی ہے۔تو کبھی کوئی چمک انسانوں کی آنکھوں کو خیرہ کر جاتی ہے۔پھر اس کی صفات کی عظمت کا اندازہ لگانا بھی ہم کمزور انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ہم کیا جانیں کہ اس کی صفت کسی رنگ میں کتنی طاقت کے ساتھ ظاہر ہو رہی ہے۔ہاں اس وقت جب خود خدا تعالیٰ اس صفت کو اس کی قوت کے ساتھ اپنے مقدس بندوں پر ظاہر نہ کر دے۔اس بات کو سمجھنے کے لئے ایک آسان طریقہ ہے۔کہ آپ بلب کے روشن ہو جانے سے یہ اندازہ تو لگا لیتے ہیں کہ بجلی آگئی ہے۔لیکن یہ نہیں جانتے کہ کتنی قوت کی بجلی ہے۔اس کو معلوم کرنے کے لئے خاص میٹر ہوتے ہیں۔اور ان میٹرز کی بھی اپنی طاقت ہوتی ہے۔اگر کم میٹر کی طاقت میں سے زیادہ قوت کی بجلی گزر جائے تو وہ جل جاتا ہے۔لیکن میٹر خود نہیں بتا سکتا کہ آنے والی بجلی کی کیا قوت ہے۔جب تک خود بجلی اس میٹر میں سے گزر کر اپنی پاور (قوت) کا پتہ نہ دے۔