پیاری مخلوق

by Other Authors

Page 36 of 60

پیاری مخلوق — Page 36

۳۶ انسان کو قوت حافظہ عطا کیا۔کیونکہ اس کی فطرت میں ترقی کرنے کا مادہ رکھا تھا لئے اس کی وجہ سے تجسس پیدا ہوا۔اور اس کو عقل سے نوازا۔فہم و فراست عطا کی۔تدتبر - غور وفکر کی دولت عطا ہوئی۔خدا تعالیٰ نے ہم انسانوں کو جسمانی بناوٹ کے لحاظ سے دوسرے جانداروں سے متانہ کر دیا۔جذبات اور احساسات عطا ہوئے۔اب ہم اپنا جائزہ لیں کہ جانوروں سے کیسے الگ ہیں۔سب سے پہلی وجہ یہ کہ انسان کا دائرہ - دائرہ انسانیت ہے۔جو حیوانات سے بالکل الگ تھلک انسان کو دنیاوی لحاظ سے تین زندگیاں ملتی ہیں جسمانی - اخلاقی اور روحانی جبکہ دوسرے جانوروں کی صرف جسمانی زندگی ہے۔ہے۔انسان دنیاوی ترقیات کے علاوہ روحانی ترقیات بھی کر سکتا ہے۔جبکہ جانور دنیاوی ترقی نہیں کر سکتے۔روحانی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انسان کو مرنے کے بعد ایک اور زندگی ملتی ہے جو اُخروی زندگی کہلاتی ہے۔جبکہ دوسر سے جانداروں کو مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں ملتی۔انسان سے اس کی دنیاوی زندگی کے بارے میں حساب کتاب ہوگا۔جب کہ دوسرے جانداروں کے ساتھ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ان تمام وجوہات کی بناء پر خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا ہے اور تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ اس کی فرمانبرداری کریں۔سے ے :۔سورۃ اعلیٰ آیت: ۳ : ے : سورۃ بقرہ آیت : ۳۱ : سے : سورۃ اعراف آیت : ۱۲ :