پیاری مخلوق — Page 35
۳۵ اس انکشاف پر کہ ہماری پیدائش کی غرض خدا تعالیٰ کی عبادت ہے اور لبس باقی سب ہمار سے خادم ہیں۔تو ہم سخت حیرت زدہ کھڑے تھے کہ یہ سب کیا ہے۔آخر ہماری عقل نے کام شروع کیا۔اور سمجھایا کہ جس طرح کوئی بادشاہ اپنے آدمیوں میں سے کسی کو چن کر اپنا خصوصی خادم بنا لے تو باقی سب خود بخود اس کی خدمت میں فخر محسوس کرتے ہیں۔کیونکہ یہ ان کے بادشاہ کا آدمی ہے۔بالکل اسی طرح جب خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے چنا تو ساری مخلوقات اس کی خادم ہو گئیں۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان میں کیا صلاحیتیں موجود تھیں جس کی وجہ سے اس کو یہ مقام ملا۔اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں خالق کی تلاش کی لگن رکھی۔اس لئے ہر انسان کبھی نہ کبھی اپنے آپ سے یہ ضرور پوچھتا ہے کہ میرا بنانے والا کون ہے۔کیونکہ اس کو فطرت صحیحہ پر پیدا کیا گیا ہے اور اس فطرت کی وجہ سے جب وہ اپنے خالق کو تلاش کر لیتا ہے تو اس پر ایمان لے آتا ہے۔لہ اس ایمان کی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کے احکامات کو حاصل کرنے کے قابل ہوا۔گویا الہام کے حصول کی طاقت دی گئی ہے انسان کو فیصلہ کرنے کی قوت دیا۔اس لئے وہ نیک و بد میں فرق کر سکتا ہے لیکھے 1 - سورۃ شمس آیت : ۸ : ل :- سورۃ حدید آیت : 4 : تے :۔سورۃ حجر آیت : ۲۹ : ے :۔سورۃ شمس آیت: 4 : -