آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 59
ٹکڑے اور نیست کرے گی اور وہی تا ابد قائم رہے گی۔جیسا کہ تو نے دیکھا کہ وہ پتھر بغیر اس کے کہ کوئی ہاتھ سے اس کو پہاڑ سے کاٹ نکالے آپ سے آپ نکلا اور اس نے لوہے اور تانبے اور مٹی اور چاندی اور سونے کو ٹکڑے ٹکرے کیا۔خدا تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ کچھ دکھایا جو آگے کو ہونے والا ہے اور یہ خواب یقینی ہے اور اس کی تعبیر یقینی ہے۔“ دانی ایل باب ۲ آیت ۳۷ تا ۴۵) اس تعبیر میں خود حضرت دانیال نے سونے کے سر سے بابل کا بادشاہ مراد لیا ہے چاندی کے سینہ اور چاندی کے بازو سے مراد فارس اور مادہ کی حکومت تھی جو بابل کی بادشاہت کے بعد آئی۔تانبے کی رانوں سے مراد سکندر کی حکومت تھی جو اس کے بعد دنیا پر غالب ہوا اور لوہے کی ٹانگوں سے مراد روما کی حکومت تھی جو ایرانی حکومت کے تنزل کے وقت دنیا میں طاقتور ہوئی۔اس آخری حکومت کے متعلق لکھا ہے اس کے پاؤں کچھ لوہے کے اور کچھ مٹی کے تھے۔جس کی تعبیر یہ تھی کہ یہ حکومت ایشیا سے یورپ میں پھیل جائے گی۔لوہے کی ٹانگوں سے مراد یوروپین حکومت ہے کہ وہ بوجہ ایک قوم اور ایک مذہب ہونے کے زیادہ مضبوط تھی۔لیکن پاؤں مٹی اور لوہے کے مشترک بنے ہوئے تھے لیکن وہ یوروپین قوم بعض مشرقی اقوام کو فتح کر کے ایک شہنشاہیت کی صورت اختیار کرلے گی اور جیسا کہ شہنشاہیتوں کا قاعدہ ہے وہ اپنی وسعت اور سامانوں کی فراہمی کے لحاظ سے قوی ہوتی ہیں لیکن غیر قوموں کے اشتراک کی وجہ سے ان میں ضعف بھی پیدا ہو جاتا ہے۔وہ حکومت اپنے آخری زمانہ میں بوجہ غیر قوموں کی شمولیت کے کمزوری کی طرف مائل ہو جائے گی۔اس کے بعد لکھا ہے ایک پتھر بغیر اس کے کہ کوئی ہاتھ سے 59