آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 45
باشندگان ملک کے مشورہ سے ہر ایک کام کیا کرے۔رسول کریم سالی یتیم کے مشوروں کا ذکر قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت میں آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ امَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَى نَجْوِيكُمْ صَدَقَةٌ ذَلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (المجادلہ : ۱۳) اے مومنو! جب کبھی تم رسول سے مشورہ لیا کرو تو مشورہ لینے سے پہلے غربا اور مساکین میں تقسیم کرنے کے لئے کچھ صدقہ پیش کیا کرو۔یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہوگا لیکن اگر تمہارے پاس کچھ نہ ہو تو پھر اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔اس صورت میں تم بغیر صدقہ پیش کرنے کے بھی مشورہ لے سکتے ہو۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی الہ تم سے لوگ کثرت سے مشورہ لیا کرتے تھے۔یہاں تک کہ اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ رسول کریم صلی یا یتیم کا اصل وقت تو تمام بنی نوع انسان کا ہے بعض لوگ اپنی خاص ضرورتوں کے لئے آپ کے وقت کو نسبتاً زیادہ استعمال نہ کرنے لگ جائیں یہ قانون مقرر کر دیا گیا کہ جو شخص آپ سے مشورہ لے وہ غریبوں اور مسکینوں کے لئے کچھ صدقہ کی رقم بھی بیت المال میں ادا کیا کرے۔تا کہ آپ کا وقت جو افراد کے کاموں میں لگے اس کا کچھ نہ کچھ ازالہ اس صدقہ کے ذریعہ سے ہو جائے۔جس شخص سے لوگ اس کثرت سے مشورہ لیا کرتے تھے کہ اس کے مشورہ کو ایک مستقل ادارہ قرار دے دیا گیا۔وہی شخص مشیر کہلانے کا مستحق ہوسکتا ہے۔پھر اس لئے بھی آپ مشیر کہلانے کے مستحق ہیں کہ آپ نے حکومت کی بنیاد قومی مشوروں پر رکھی۔چنانچہ قرآن کریم میں جو آپ پر نازل ہونے والی وحی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ ( شوری : ۳۹) مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کوئی حکومتی کام نہ کریں جب تک کہ وہ ملک کے 45