آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 15
الغیب ہے وہ اپنے غیب کو کسی پر ظاہر نہیں کرتا سوائے برگزیدہ رسولوں کے۔پھر جب وہ کسی کو اپنا رسول بنا کر بھیجتا ہے تو وہ اس کے آگے اور پیچھے اس کی حفاظت کے سامان کرتا رہتا ہے۔یعنی محمد رسول اللہ صلی ا یہ تم کو جب اس نے ایک خاص کام کے لئے بھیجا ہے تو وہ انہیں بغیر حفاظت کے نہیں چھوڑے گا اور دشمن کو آپ کے مارنے پر قادر نہیں کرے گا۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اسلام کا انجام اتفاقی انجام نہیں تھا بلکہ آپ نے شروع سے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ کو خدا تعالیٰ دشمن کے حملوں سے بچائے گا اور دشمن آپ کے قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔اس طرح آپ نے دنیا کو ہوشیار کر دیا تھا کہ میں استثناء باب ۱۸ آیت ۲۰ کی پیشگوئی کے مطابق قتل نہیں کیا جاؤں گا کیونکہ میں جھوٹا نہیں بلکہ حقیقی طور پر موسیٰ کی پیشگوئی کا مصداق ہوں۔خلاصہ یہ کہ موسیٰ علیہ السلام نے بعثت محمدیہ سے قریباً ۱۹ سو سال پہلے یہ خبر دی تھی کہ موسوی شریعت الہی کلام کا آخری نقطہ نہیں ابھی انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مزید ہدایتوں کی ضرورت ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ آخری زمانہ میں ایک اور مامور بھیجے گا وہ مامور دنیا کے سامنے سب سچائیوں کو پیش کرے گا اور وہی انسان کی روحانی ترقی کا آخری نقطہ ہوگا پس اس پیشگوئی کے مطابق دنیا میں ابھی ایک اور کتاب اور ایک اور نبی کی ضرورت تھی۔پس قرآن کریم نے اور محمد رسول اللہ صلی یا کہ تم نے بائبل اور موسیٰ و عیسی کی بعثت کے بعد اگر دنیا کی ہدایت کا دعویٰ کیا۔تو وہ بالکل حق بجانب اور خدا تعالیٰ کے کلام کو پورا کرنے والے تھے۔قرآن کریم غیر ضروری نہ تھا، بلکہ اگر قرآن کریم نہ آتا تو خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بہت سی باتیں غلط ہو جاتیں اور دنیا بداعتقادی اور شک کے مرض میں مبتلا ہو جاتی۔15